فوج نیوٹرل اور عدلیہ آزاد ہوگئی، سب یاد رکھیں!
سیاسی جماعتوں، وکلا اور صحافیوں کو موجودہ صورتحال ذہن نشین کرلینی چاہیےاور مستقبل میں کوئی فیصلہ اپنی مرضی کے خلاف آئے تو عدلیہ پردباؤ اور اداروں پر جانب داری کا الزام نہیں عائد کرنا چاہیے

سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کے تاریخی فیصلے سے ثابت کردیا کہ نظریہ ضرورت ہمیشہ کیلیے دفن ہوگیا۔اس فیصلے سے تصدیق ہوگئی کہ فوج نیوٹرل اور عدلیہ مکمل آزاد ہے۔
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون کہتے ہیں کہ جمعرات کو دیے گئے تاریخی فیصلے کے بد نظریہ ضرورت ہمیشہ ہمیشہ کیلیے دفن ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
چیف جسٹس اور ساتھی ججز کا تاریخی فیصلے کے ذریعے ناقدین کو سرپرائز
وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب کرانے کیلیے حمزہ شہباز کا لاہور ہائیکورٹ سے رجوع
سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ فوج اور عدلیہ نے اپنے نیوٹرل ہونے کا ثبوت دیا ہے اور آخر وقت تک ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ عدلیہ پر کوئی دباؤ ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے لوگوں میں بے تحاشا مایوسی چھاگئی‘ پی ٹی آئی کے دوست حکومت کی حماقتیں اور غلطیاں گنواتے تھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی والے ہمیشہ سرپرائز کی بات کرتے رہے مگر سپریم کورٹ سے انہیں سرپرائز مل گیا‘ پہلا سوال جو سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق تھا اس بارے میں کم و بیش تمام افراد نے اس فیصلے کی تعریف کی اور لارجر بینچ کے متفقہ فیصلے کو سیاسی اور قومی بحران سے نکالنے کے لئے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے معزز جج صاحبان نے جہاں ماضی کے بعض ’’متنازع فیصلوں‘‘ کے داغ دھوئے ہیں وہیں صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں انصاف کی فراہمی اور معاملہ فہمی سے عدلیہ کے وقار کو بلند کیا ہے۔
دوسری جانب گزشتہ روز کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ ادارے نیوٹرل ہیں اور ان کا ملکی سیاست کوئی عمل دخل نہیں ہے۔واضح رہے کہ موجودہ حکومت کا شروع دن سے یہ دعویٰ تھا حکومت او ر ادارے ایک پیج پر ہیں۔اس ایک پیچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیراعظم عمران خانے سیاسی مخالفین کوانتقام کا نشانہ بنایا تاہم حالیہ عرصے میں فوجی ترجمان نے واضح اعلان کیا تھا کہ فوج کا سیاست سے تعلق نہیں ہے اور ادارے نیوٹرل ہیں ۔
اداروں کی جانب سے واضح اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد ڈھکے چھپے الفاظ میں اداروں کو نیوٹریلٹی پر تنقید کا نشانہ بنارہے تھے۔وزیراعظم نے ایک جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ انسان کبھی نیوٹرل نہیں ہوتا ،انسان ہمیشہ اچھائی کے ساتھ ہوتا ہے ، نیوٹرل جانور ہوتے ہیں۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں 27 مارچ کو منعقدہ جلسے کا عنوان اسی مناسبت سے امربالمعروف رکھا تھا۔ اس جلسے میں وزیراعظم نے اپنی جیب سے ایک خط نکال لہرایا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ اپوزیشن نے ایک مغربی ملک کے ساتھ ملکر ان کی حکومت گرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔بعدازاں وزیراعظم قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلاکرتینوں مسلح افواج کے سربراہان کی موجودگی میں معاملہ اٹھایا تھا۔
قومی سلامتی کونسل نے مراسلے میں استعمال کردہ زبان اور پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے مذکورہ ملک ڈی مارش ارسال کرنے کی منظوری دی تھی۔بعدازاں وزیراعظم عوامی اجتماعات میں قومی سلامتی کونسل کے اعلامیے کو جواز بناکر اپوزیشن کو ملک سے غداری اور حکومت کیخلاف سازش کا مرتکب قرارد یا تھا۔
وزیراعظم کے الزامات کے بعد اپوزیشن لیڈر شہبازشریف، مولانا فضل الرحمان ،بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے اداروں سے سامنے آکراپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اپوزیشن کے مطالبے کے باوجود ریاستی اداروں نے اپنی نیوٹریلٹی برقرار رکھتے ہوئے کسی قسم کی وضاحت پیش کرنے سے گریز کیا تھا تاہم قومی اور بین الاقوامی میڈیا کو ذرائع سے ضروری وضاحت جاری کردی گئی تھی۔
البتہ سپریم کورٹ کی جانب سے تاریخی فیصلہ آنے کے بعد یہ بات مکمل طور پر واضح ہوگئی ہے ۔اعلیٰ عدلیہ دباؤ سے آزاد ہوچکی ہے جبکہ ادارے بھی اپنی حدود میں رہ کر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں، وکلا اور صحافیوں کو موجودہ صورتحال ذہن نشین کرلینی چاہیےاور مستقبل میں کوئی فیصلہ اپنی مرضی کے خلاف آئے تو عدلیہ پردباؤ اور اداروں پر جانب داری کا الزام نہیں عائد کرنا چاہیے۔









