شیریں مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدالتی بغاوت قرار دیدیا

کل رات ایک عدالتی بغاوت ہوئی ہے جس میں  یہ حکم دیا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کیسے اور کس وقت منعقد ہونا چاہیے، فیصلے سے پارلیمانی بالادستی ختم کردی گئی،وفاقی وزیرانسانی حقوق

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ روز سنائے گئے قومی اسمبلی کی بحالی سے متعلق  فیصلے کو عدالتی بغاوت قرار دیدیا۔

شیریں مزاری نے اپنے ٹوئٹ میں عدالتی فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فوج نیوٹرل اور عدلیہ آزاد ہوگئی، سب یاد رکھیں!

چیف جسٹس اور ساتھی ججز کا تاریخی فیصلے کے ذریعے ناقدین کو سرپرائز

شیریں مزاری نے لکھا کہ  پارلیمنٹ کی بالادستی کو ختم کرنے کے لیے کل رات ایک عدالتی بغاوت ہوئی جس میں  یہ حکم دیا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کیسے اور کس وقت منعقد ہونا چاہیے، عدالتی فیصلے سے پارلیمانی بالادستی ختم کردی گئی، افسوس کی بات ہے کہ  حکومت کی تبدیلی کی امریکی سازش کا مسئلہ کمرے میں ہاتھی کو بند کرنے جیسا بنادیا گیا۔نتیجتاً ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا لیکن یہ بات یہاں ختم نہیں ہوگی۔

اس عدالتی فیصلے پر جو طویل سائے منڈلا رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ کھیل جیت گئے ہیں  لیکن سچ کہوں تو یہ ابھی شروعات ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ کس نے اپنی جان پیسے کے لالچ میں  امریکا کو بیچ دی ۔الیکشن کمیشن کی ناقابل فہم ہچکچاہٹ کے باوجود آخر کار یہ معاملہ عوام کی عدالت میں جائیں گے۔

متعلقہ تحاریر