حکومت کو عدالتی محاذ پر دوسرادھچکا،پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

پیکا ترمیمی آرڈیننس  آئین کے آرٹیکل  19،14،9 اور 19اے  کے منافی ہے،اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے حق کو دبانا جمہوری اقدار کے منافی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ

وفاقی حکومت کو 24 گھنٹے میں عدالتی محاذ پر دوسری بڑی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس2022 کوغیرآئینی اور کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس  آئین کے آرٹیکل  19،14،9 اور 19اے  کے منافی ہے،اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے حق کو دبانا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ای سی پی، 2017 کی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے معیشت پر مثبت اثرات

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے4صفحات پر مشتمل فیصلہ پڑھ کر سنایا۔عدالت نے آج ہی مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

چیف جسٹس نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ  کوئی شک نہیں کہ پیکاترمیمی آرڈیننس غیرقانونی ہے،آرٹیکل 19 شہریوں کو حق آزادی اظہار رائے دیتا ہے،پیکا ترمیمی آرڈیننس کا جاری کرنا غیرقانونی قراردیا جاتا ہے، پیکا ترمیمی آرڈیننس  آئین کے آرٹیکل  19،14،9 اور 19اے  کے منافی ہے۔

عدالت نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ  آزادی اظہار رائے ایک بنیادی حق ہے،ترقی اور خوشحالی کے اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کا حق ضروری ہے،اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے حق کو دبانا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

عدالت نے فیصلے میں سیکریٹری داخلہ کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے اہلکاروں کے طرز عمل کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اختیارات کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہوا جس نتیجے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں،پیکا ترمیی آرڈیننس سے متاثرہ افراد متعلقہ فورم سے رجوع کرسکتے  ہیں۔

یاد رہے پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن( پی بی اے)اور دیگر صحافتی تنظیموں نے پیکا ترمیمی آرڈیننس  کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔درخواست گزاروں نے  پیکا آرڈیننس کے  سیشن 20 کے تحت ایف آئی اے کے بے جا اختیارات کو بھی چیلنج کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر