قومی اسمبلی کل نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی
سابق وزیراعظم عمران خان کی رخصت کی بعد پاکستان کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس (کل) پیر کو دوپہر 2 بجے ہوگا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی رخصت کی بعد پاکستان کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس (کل) پیر کو دوپہر 2 بجے ہوگا۔
پینل چیئرمین قومی اسمبلی ایاز صادق نے اعلان کیا ہے کہ وزارت عظمیٰ کے لیے کاغذات نامزدگی آج (اتوار) 1400 بجے تک جمع کرائے جاسکتے ہیں جب کہ کاغذات کی جانچ پڑتال آج (اتوار) 1500 بجے تک ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے نئے قائد ایوان کا انتخاب پیر کو ہوگا۔
پینل چیئرمین نے ایوان کا اجلاس پیر کی صبح 11 بجے دوبارہ ملتوی کر دیا جو کہ اب دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
اتوار کے روز قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے آئینی طریقے سے تحریک عدم اعتماد میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف ووٹ کرکے انہیں عہدے سے فارغ کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کی حکومت مہینے بھر کی ہنگامہ خیزی کے بعد رخصت
ڈی جی ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ نے اپنی تنخواہ کم کرنے کیلیے خط لکھ دیا
حزب اختلاف نے عدم اعتماد کی قرارداد میں شکست دے کر ملک کی پارلیمانی تاریخ میں جمہوری طریقے سے تبدیلی کی ایک نئی مثال قائم کی۔
341 نشستوں والے ایوان میں (ایم این اے خیال زمان اورکزئی کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست کو چھوڑ کر)، پینل آف چیئرپرسن کے رکن ایاز صادق کی جانب سے قرارداد کے حق میں اور مخالفت میں ووٹنگ کی درخواست کے بعد متحدہ اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف 174 ووٹ کاسٹ کیے۔
152 تحریک چلانے والوں کے ناموں پر مشتمل یہ قرارداد 28 مارچ کو قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے آئین کے آرٹیکل 95 (1) کے تحت پیش کی تھی جسے قومی اسمبلی میں قواعد و ضوابط اور کاروبار کے 2007 کے رول 37 کے ساتھ پڑھا گیا۔
تحریک عدم اعتماد میں کہا گیا تھا کہ "اس ایوان کا خیال ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان پاکستان کی قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں، اس لیے انہیں اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔”









