تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا فیصلہ کرلیا، فواد چوہدری
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کا کہنا ہے وہ عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے ہیں اگر پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے استعفے دے دیئے تو وہ بھی استعفیٰ دے دیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزارت عظمیٰ کےلیے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد نہیں ہوتے تو ان کی جماعت قومی اسمبلی سے استعفے دے دی گی، جبکہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ” تحریک انصاف نے اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، کل وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد یہ عمل قومی اسمبلی سے شروع کیا جائیگا۔”
تحریک انصاف نے اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، کل وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد یہ عمل قومی اسمبلی سے شروع کیا جائیگا
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) April 10, 2022
اس سے قبل انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ہم نے عمران خان کی قیادت میں ایک بڑی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم عمران خان اور پاکستان کی خاطر سڑکوں پر لڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کورکمیٹی کا اجلاس، بطور اپوزیشن حکمت عملی طے
قومی اسمبلی کا نیا قائد ایوان کون ہو گا؟ کاغذات نامزدگی جمع ، فیصلہ کل
انہوں نے کہا کور کمیٹی نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ عوام کے تعاون سے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی اس لیے جمع کرائے تاکہ شہباز شریف کے کاغذات کو چیلنج کرسکیں۔
ان کا کہنا تھا یہ بدقسمتی ہے کہ جس دن شہباز شریف پر فرد جرم عائد کی جائے گئی اس دن وہ وزیراعظم کے لیے انتخاب لڑرہے ہوں۔ فواد چوہدری کا کہنا ہے ہم پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی سے استعفے دیں گے۔
دوسری جانب سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میں اپنے لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے 16 مرتبہ مجھے مںتخب کیا۔ میں نے اپنے علاقے میں یونیورسٹی کا جال بچھایا۔ میں عمران خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔
شیخ رشید احمد کا کہناہے اگر تحریک انصاف نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تو میں بھی ان کے ساتھ شامل رہوں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا ایوان اس وقت 341 اراکین پر مشتمل ہے ۔ جیسا کے فواد چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ اگر شہباز شریف وزیراعظم بن گئے تو تحریک انصاف پہلے قومی اسمبلی سے استعفے دے دے گی۔ تو اسمبلی میں کتنے ارکان باقی بچیں گے ۔ پی ٹی آئی کے کل 155 ارکان ہیں اگر ان میں سے 20 استعفے نہیں بھی دیتے تو 135 ارکان تو ضرور استعفے دیں گے۔ اور اگر شیخ رشید کی نشست بھی گن لی جائے تو 136 اراکین بن جاتے ہیں۔ ان سب کے مستعفی ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں ارکان کی تعداد 205 یا 206 رہ جائے گی ، تو پھر ایوان کی کارروائی کیسے چلے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 205 یا 206 اراکین اسمبلی کے ساتھ اگر شہباز شریف وزیراعظم بن بھی گئے تو قانون سازی کیسے کریں گے ۔ الیکشن کمیشن 135 حلقوں میں ضمنی انتخابات کیسے کرائے گی۔ اس کے لیے وقت کون سا رکھا جائے گا ؟ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے جبکہ دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عام انتخابات ہوسکتے ہیں ضمنی انتخابات نہیں ، نئےانتخابات کےلیےقومی تحریک کاآج رات سے آغاز ہوجائے گا۔پی ٹی آئی کی تحریک سیاسی نہیں پاکستان کی سالمیت کی تحریک ہے۔









