مبینہ مراسلے کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست، اسلام آباد ہائی کورٹ سے مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے غداری کی کارروائی کے لیے دائر درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیا ہے۔

عدالت نے درخواست کے وکیل پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی کردیا ۔ حکم نامہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جاری کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا،

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان، یو ایس سفارتخار اسد مجید ، فواد چوہدری ، شاہ محمود قریشی اور قاسم سوری کے خلاف غداری کی کارروائی کے لئے دائر درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیے

فنڈز کی عدم فراہمی ، ہینڈز کے زیراہتمام ایک اسپتال اور 34 مراکز صحت بند

پاکستان کا بیلسٹک میزائل شاہین3 کا کامیاب تجربہ

چیف جسٹس نے درخواست گزار سے دریافت کیا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی کیوں بنا رہے ہیں؟۔

عدالت اعظمیٰ نے کہا کہ یہ معاملہ دیکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، آپ کیوں اس حوالے سےعدالت آئے؟۔

درخواست گزار اقبال حیدر کا دلائل میں موقف اختیار کیا کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے کر آئیں، جس پر عمران خان نے خط دکھا کر دعویٰ کیاکہ ان کی حکومت کے خلاف سازش کی گئی ہے۔

ان کا موقف تھا کہ امریکہ نے سازش کئے جانے کے الزام کی تردید کی ہے، یہ انتہائی اہمیت کا حامل معاملہ ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیں۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق وفاقی وزراء فواد چوہدری اور شاہ محمود قریشی کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں اور ان کے خلاف غداری کے مقدمات چلائے جائیں۔

اقبال حیدر کا موقف تھا کہ عمران خان کی جانب سے جو الزامات لگائے گئے اس سے پاک امریکا تعلقات کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہاکہ سیکرٹری داخلہ مبینہ مراسلے کی تحقیقات کرانے کے پابند ہیں جبکہ وفاق حکومت کی ذمہ داری تھی کہ معاملے کی تحقیقات کراتی اور اس خط کے اہم معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جاتی۔

متعلقہ تحاریر