پاکستان کے 23ویں وزیراعظم کا انتخاب، ملزم شہباز شریف بمقابلہ اینٹی امریکہ شاہ محمود

اتوار کے روز نئے قائد ایوان کے لیے جمع کرائے گئے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی سیکریٹری قومی اسمبلی نے منظور کرلیے ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی رخصتی کے بعد پاکستان کی قومی اسمبلی آج 23ویں قائد ایوان کا انتخاب کرے گی۔ وزارت عظمیٰ کے لیے مقابلہ منی لانڈرنگ کیس کے ملزم شہباز شریف اور امریکہ مخالف بیانیے کے علمبردار شاہ محمود قریشی کے درمیان ہے۔

مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عمران خان کی برطرفی کے بعد قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے پاکستان کے نئے وزیراعظم منتخب ہونے کے امکان واضح ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا فیصلہ کرلیا، فواد چوہدری

عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کورکمیٹی کا اجلاس، بطور اپوزیشن حکمت عملی طے

قومی اسمبلی کا اہم اجلاس آج دوپہر2بجے ہوگا۔جس میں وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔اجلاس کی کارروائی آئین کے آرٹیکل 91 اور قاعدہ 32 کے تحت چلائی جائے گی۔

اجلاس کا 2 نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا ہے جس میں قائد ایوان کا انتخاب شامل ہے۔

وزیراعظم کے عہدے کے لئے دو امیدوار مدمقابل ہیں جن میں میاں شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی شامل ہیں۔جنہوں نے گذشتہ روز کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جنہیں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے جانچ پڑتال کے بعد درست قرار دے دیا تھا ۔وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دو روز قبل اپوزیشن کے 174ووٹوں سے کامیاب ہوئی تھی۔

نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لئے کم از کم ایوان کے ارکان کے نصف یعنی 172 ارکان کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے۔قومی اسمبلی کے آج کے اجلاس میں اسپیکر چیئر کی جانب سے شیڈول پڑھ کر سنایا جائے گا۔قائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر تمام ارکان کی ایوان میں موجودگی یقینی بنانے کے لئے پانچ منٹس تک گھنٹیاں بجائی جائیں گی۔جس کے بعد ایوان کے دروازے بند کردیئے جائیں گے اور لابیز کے دروازوں پر سارجنٹ ایٹ آرمز متعین کردیئے جائیں گے۔قائد ایوان کے انتخاب کے حوالے سے رائے شماری کے لئے اسپیکر ایوان کو دو حصوں میں تقسیم کردے گا اور دونوں امیدواروں کو ووٹ دینے کے لئے الگ الگ لابیز مختص کی جائیں گی اور ارکان قومی اسمبلی ان دروازوں سے گزرتے ہوئے اپنے ناموں کا اندراج کروائیں گے۔

رائے شماری مکمل ہونے پر اسپیکر نتائج کا اعلان کریں گے۔

نومنتخب وزیراعظم آج شب عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

اتوار کے روز نئے قائد ایوان کے لیے جمع کرائے گئے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی سیکریٹری قومی اسمبلی نے منظور کرلیے ہیں۔

سیکریٹری قومی اسمبلی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کے تمام کاغذات نامزدگی درست قرار پائے ہیں ان کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے دستخط بھی درست قرار پائے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے صدر شریف کے کاغذات نامزدگی پی ٹی آئی کے اعتراضات مسترد ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے منظور کر لیے ہیں۔ قریشی کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کر لیے گئے۔

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما بابر اعوان نے شہباز شریف کی کاغذات نامزدگی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ کو کئی عدالتی مقدمات کا سامنا ہے۔

2019 میں قومی احتساب بیورو نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شریف کو منی لانڈرنگ کا الزام لگا کر گرفتار کیاتھا۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز سابق وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی گئی تھی ، حزب اختلاف کی جماعتوں نے عمران خان کے خلاف ووٹ کاسٹ کیے تھے۔ قومی اسمبلی کے 174 اراکین نے سابق وزیراعظم کے خلاف اپنا فیصلہ دیا۔

عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں عہدے سے فارغ کیا گیا ، اس طرح وہ ملکی تاریخ کے پہلے وزیراعظم بن گئے جنہیں ایوان کا اعتماد کھونے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔

دریں اثنا، اتوار ہی کے روز کابینہ ڈویژن نے وفاقی کابینہ کے 52 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کر دیا۔

جن ارکان کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا ان میں 25 وفاقی وزراء ، 4 وزیر مملکت ، 4 مشیران اور 19 معاون خصوصی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اتوار کے روز سابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا۔

عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ ، گورنرز  اور پارٹی کی سینئر قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر پی ٹی آئی موثر اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔

اجلاس میں  عوامی رابطہ مہم اورپرامن احتجاج سےمتعلق مشاورت کی گئی  جبکہ  12اپریل کوپشاورمیں جلسہ کرنےکابھی فیصلہ کیا گیا ،  عمران خان پشاورجلسےسےعوامی رابطہ مہم کاآغازکریں گے۔ کورکمیٹی نے پارٹی کی تنظیم سازی جلدمکمل کرنےکابھی فیصلہ کیا اور آئندہ الیکشن میں ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے پارلیمانی بورڈ متحرک کرنے کا فیصلہ ہوا۔

دریں اثناء سابق وزیراعظم عمران خان کی کال پر ملک تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پی ٹی آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد نے عمران خان کے حق میں احتجاجی مظاہرے ۔

مظاہرین نے تحریک عدم اعتماد کو غیرملکی سازش قرار دیتے اپوزیشن جماعتوں کے خلاف نعرے بازی کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ دھمکی آمیز مراسلے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر منی لانڈرنگ کیس کا ملزم شہباز وزیراعظم منتخب ہو جاتا ہے تو پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی سے استعفے دے دے گی۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ہم ان چوروں اور ڈاکوؤں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے ، اگر پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے استعفے دیئے تو میں بھی استعفیٰ دے دوں گا۔

متعلقہ تحاریر