تیمرگرہ:پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد پر حملہ، امام کی داڑھی مونڈ دی  

کل رات سابق وزیر اعظم عمران خان کیساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ شمالی ضلع لوئر دیر تیمرگرہ میں احتجاج کے دوران پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف)  کےکارکنان کے مابین ہاتھ پائی ہے جبکہ مسجد پر حملے کے نتیجے میں امام مسجد کی داڑھی مونڈ دی۔

مظاہرے میں شریک پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان مولانا فضل الرحمن کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے اسی دوران جے یو ایی ایف کے کچھ  کارکنان بھی وہاں پہنچ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

مبینہ مراسلے کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست، اسلام آباد ہائی کورٹ سے مسترد

عمران خان کی رخصتی ، کراچی سے خیبر تک مظاہرے شروع

تیمرگرہ گورگوری چوک کے قاضی پلازہ کی فورتھ فلور پر واقع مسجد میں موجود چند لوگ (جی یو آئی ایف ورکرز) مسجد سے باہر نکل کر پی ٹی آئی کے خلاف نعرے بازی شروع کی جس کے وجہ سے دونوں پارٹیوں کے ورکرز کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوئی،  پھر جی یو آئی ورکرز مسجد میں چلے گئے اور پی ٹی ایی  کے چند کارکن جے یو آئی کے کارکنوں کو پکڑنے کی کوشش میں مسجد کے اندر داخل ہو گئے۔

یاد رہے کہ مسجد فورتھ فلور پر ہے اور احتجاج باہر چوک میں ہورہا تھا جب جی یو آئی کی طرف سے نعرے بازی ہوئے تو پی ٹی آئی ورکرز اوپر آکر مسجد کے اندر گئے اور ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ شروع ہوئی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کو کنٹرول کیا۔

سوشل میڈیا پر واقع کی وڈیوذ موجود ہیں. مفتی محسن محمود کے مطابق پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنان نے مسجد خطیب مولانا طفیل کی داڑھی مبارک بھی نوچ لی. انکے مطابق انتظامیہ نے کاروائی کی یقین دہانی دی ہے. اگر کچھ نہیں ہوا تو احتجاج ہوگا.

رپورٹس کے مطابق مسجد کے خطیب کی سیاسی وابستگی مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت جمعیت علما اسلام (ف) سے بتائی جاتی ہے۔

مسجد کے خطیب مولانا طفیل نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں حملے کا ذمے دار رکنِ قومی اسمبلی محبوب شاہ، رکن صوبائی اسمبلی ملک شفیع اللہ خان اور ان کے بیٹے کاشف کمال اور نومنتخب تحصیل بلام بٹ کے چیئرمین عاصم شعیب کو ٹھہرایا ہے۔

متعلقہ تحاریر