آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر قرضہ لینے کیلیے کوشاں ہیں، رضا باقر
گورنر اسٹیٹ بینک نے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بہت جلد عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو جائے گا۔

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا سرمایہ کاروں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایسا سیاسی عمل جمہوریتوں میں نیا نہیں ہے، ان کا اشارہ تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے بعد عمران خان کی بطور وزیراعظم سبکدوشی کے معاملے کی طرف تھا۔
بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے رضا باقر نے کہا کہ معاشی پالیسی تشکیل دینے والے ادارے بروقت اقدامات اٹھاتے رہیں تاکہ معاشی استحکام کا ہدف یقینی بنایا جاسکے۔
ایک ہنگامی اجلاس کے بعد مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں اضافے کا حیران کُن فیصلہ کیا گیا جس کے بعد شرح سود 12.25 فیصد مقرر ہوگئی۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ شرح سود میں اضافے کے باوجود رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کا باقی قرضہ حاصل کرنے کے لیے ایک مستحکم حکومت قائم ہونا ضروری ہے۔
بجلی اور ایندھن کی قیمتیں کم کر کے عمران خان نے آئی ایم ایف قرضے کی ڈیل کو مشکل میں ڈال دیا، اس فیصلے سے عوام کا غم و غصہ کم ہو گیا کیونکہ مہنگائی پہلے ہی بہت بڑھ گئی تھی۔
رضا باقر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے مطلوبہ اقدامات مشکل اور غیرمقبول ہوتے ہیں جیسا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، اور ان اقدامات کو نہ اٹھانے سے فنڈز کی فراہمی کا عمل متاثر ہوتا ہے لیکن یہ ہر اُس ملک کا مسئلہ ہے جہاں سیاسی صورتحال عدم استحکام کا شکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم بہت پراعتماد ہیں کہ بہت جلد ہم اس تعطل کا ختم کر دیں گے اور آئی ایم ایف کے ساتھ اپنا معاہدہ مکمل ہونے کا اعلان کرنے کی اچھی خبر سنائیں گے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ آئی ایم ایف صرف پیسوں کی وجہ سے اہم نہیں بلکہ اس کی وجہ سے معاشی پالیسی کے متعلق اچھا تاثر جاتا ہے اور دیگر قرض دہندہ اور نجی کیپٹل مارکیٹ سے قرض کا حصول آسان ہوجاتا ہے۔









