پاکستان میں سیاسی ہلچل غیریقینی کی صورتحال پیدا کررہی ہے،موڈیز
ملک کو مہنگائی، بڑھتے ہوئے جاری خسارے اور زرمبادلہ میں کمی کا سامنا ہے،واضح نہیں کہ نئی حکومت آئی ایم ایف پروگرام سے کیسے رجوع کریگی، عالمی ریٹنگ ایجنسی

معیشت کی درجہ بندی کرنے والی عالمی تنظیم موڈیز نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی ہلچل غیریقینی کی صورتحال پیدا کررہی ہے،ملک کو مہنگائی، بڑھتے ہوئے جاری خسارے اور زرمبادلہ میں کمی کا سامنا ہے ۔واضح نہیں کہ نئی حکومت آئی ایم ایف پروگرام سے کیسے رجوع کریگی ۔
موڈیز کا کہنا ہے کہ ابھی واضح نہیں کہ آئی ایم ایف سے حکومت موجودہ حالات میں بات چیت شروع کرے گی یا نہیں ۔پاکستان کو زرمبادلہ زخائر بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف کی معاونت درکار ہے ۔ پاکستان کے زمبادلہ زخائر صرف 2ماہ کی درآمدات کوپورا کرسکتے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیے
پی ایس ایکس میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس میں 1700 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ
سیاسی کشیدگی میں کمی کے اثرات، انٹربینک میں ڈالر مزید 1.75 روپے سستا
دوسری جانب موڈیز نے پاکستانی بینکوں کاآؤٹ لک مستحکم قراردےدیا۔موڈیز کے مطابق مستحکم آؤٹ لک معیشت کا بہترتسلسل اور بڑھتی مالی شمولیت ہے جب کہ بہتر معاشی سرگرمیوں کےسبب بینکوں کی قرض گیری بڑھےگی۔
موڈیز کا کہنا ہے کہ مالی سال 2022 میں جی ڈی پی شرح نمو 3 سے 4 فیصد اور 2023 میں 4 سے 5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
موڈیز کے مطابق غیرفعال قرضوں کی شرح بلند مگر مجموعی قرضوں کے 9 فیصد پر مستحکم رہے گی، بینکوں کا منافع اعتدال سے بڑھے گا جو نئےکاروبار اور شرح سود بہتر ہونے کے سبب بڑھے گا، بینکوں کی جانب سے منافع کی ادائیگی رواں سال بڑھے گی۔









