لیٹر گیٹ کی تحقیقات ، ساری نظریں سپریم کورٹ آف پاکستان پر مرکوز

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے بھجوایا گیا دھمکی آمیز مراسلہ چیف جسٹس کو موصول ہو گیا جبکہ فواد چوہدری نے کہنا ہے سپریم کورٹ میمو گیٹ اسکینڈل کی طرح لیٹر گیٹ کی تحقیقات کرے۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے ارسال کیا گیا سیل بند دھمکی آمیز مراسلہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دفتر کو موصول ہو گیا ہے تاہم اب یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ اس پر تحقیقات کرائے۔

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ خط پر تحقیقات شروع کرنا اور سفارت کار سمیت متعلقہ افراد کو طلب کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد جلسے کے دوران ایک خط لہرا تھا اور کہا تھا کہ ان کے پاس یہ "تحریری ثبوت” ہیں کہ ان کے حکومت کو گرانے کے لیے جو تحریک عدم اعتماد پیش کی جارہی ہے غیرملکی سازش ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بنوں : سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشتگرد ہلاک ،بھاری مقدارمیں اسلحہ برآمد

اشتہار ی ملزم نوازشریف کو سفارتی پاسپورٹ کے اجراء کا فیصلہ

سپریم کورٹ کو منگل کے روز قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی طرف سے بھیجا گیا "مہر بند خفیہ خط” موصول ہوا – جس میں امریکہ کی طرف سے مبینہ دھمکی دی گئی تھی۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "میری ہدایات پر قومی اسمبلی کی جانب سے بھیجوایا گیا خفیہ سیل شدہ مراسلہ جس میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو معافی وگرنہ پاکستان کو سنگین نتائج کا سامنا ہوگا چیف جسٹس سپریم کورٹ آفس کو موصول ہوگیا ہے، معزز عدالت عالیہ سے میمو گیٹ طرز کمیشن بناکر انکوائری کی امید ہے۔”

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے اعلان کے فوری بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "ڈپٹی اسپیکر نے چیف جسٹس پاکستان کو اوریجنل مراسلہ بھیج دیا ہے، اب سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ اس مراسلے پر تحقیقات کا آغاز کرے اور سفیر سمیت تمام متعلقہ لوگوں کو گواہی کیلئے طلب کیا جائے۔”

‘دھمکی آمیز خط’ کیا ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ہونے والے جلسے میں ایک خط لہرا تھا۔ عوام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا یہ وہ تحریری ثبوت میرے پاس ہے جس کے تحت میری حکومت کو گرایا جارہا ہے ، تحریک عدم اعتماد کو بیرون ممالک سے فنڈنگ ہورہی ہے ۔ "ہمارے کچھ لوگوں کو حکومت گرانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے”۔

دھمکی آمیز خط پر اپوزیشن کی جانب سے شور مچانے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا اہم اجلاس طلب کیا تھا اور مراسلے کو کمیٹی کے سامنے رکھا تھا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے ارکان نے دھمکی آمیز خط کے مندرجات اور زبان پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا اور پاکستان میں امریکی سفیر کو طلب کر کے ایک احتجاجی مراسلہ بھی جاری کیا تھا۔

بعد ازاں اس دھمکی آمیز خط کی بنیاد پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو بنیاد بنا کر تحریک عدم اعتماد کو مسترد کردیا تھا ، جس کے بعد عمران خان کی ایڈوائس صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے احکامات جاری کردیئے تھے۔

صدر مملکت کے حکام کے بعد ملک میں شدید آئینی بحران پیدا ہو گیا تھا ، دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دھمکی آمیز مراسلے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس تحریک عدم اعتماد سے کچھ لینا دینا ہے ۔

متعلقہ تحاریر