عمران خان کا بیانیہ نئی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کیلیے درد سربن گیا

پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں میں امریکا کیخلاف شدید غم و غصہ، پی ٹی آئی کے باغی ارکان کا عوامی مقامات پر جانا محال ہوگیا،عمران خان کا حامی ملک کا وفادار، مخالف غدار ٹھہرایا جانے لگا

تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان کا بیانیہ ان دنوں سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ نا صرف تحریک انصاف کے کارکنان اور حامی بلکہ عام پاکستانیوں کی بڑی تعداد بھی اس بیانیے کو سچ تسلیم کررہی ہے۔

 تحریک انصاف کے باغی ارکان  کو پی ٹی آئی کارکنوں کے شدید غیض و غضب کا سامنا ہے۔باغی ارکان کا گھیراؤ کیا جارہا ہے ،ا نہیں مغلظات دی جارہی ہیں  اور نوبت ہاتھا پائی تک  آگئی ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ روز اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں پیش آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

غیر ملکی سازش کے خلاف آزادی کی جدوجہد شروع ہورہی ہے، عمران خان

پی ٹی آئی کا عید کے تیسرے دن سے لانگ مارچ کرنے پر غور

تحریک انصاف کے باغی رکن قومی اسمبلی نورعالم خان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر،فیصل کریم کنڈی ،  ندیم افضل چن اور شیخ وقاص اکرم کے ساتھ افطار میں مصروف تھے کہ اس دوران وہاں موجودتحریک انصاف کے ایک بزرگ حامی  ،باغی رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کو دیکھ کر طیش میں آگئے ،انہیں برا بھلاکہا اور مغلظات دیں ۔

 اس دوران نور عالم خان  اور تحریک انصاف کے بزرگ حامی کے دوران تلخ کلامی بڑھی اور نوبت ہاتھا پائی تک جاپہنچی۔اس دوران سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور ندیم افضل چن نے  معاملہ رفع دفع کرانے کی کوشش کی تو مشتعل بزرگ نے ٹیبل پر بڑی بوتل نور عالم خان  پر پھینکی جس پر مصطفیٰ نواز کھوکھر طیش میں آگئے اور تحریک انصاف کے بزرگ حامی کو منہ گھونسا دے مارا جس کے نتیجے میں وہ زمین پر جاگرے۔اس دوران ہوٹل کے عملے اور موقع پر موجودا فراد نے بیچ بچاؤ کرایا اور بزرگ شہری کو ڈائننگ ہال سے باہر لے گئے۔

ندیم افضل چن نے عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہم افطار کیلیے بیٹھے تھے کہ ان صاحب نے آکر نور عالم خان کو پشتو میں ماں بہن کی گالیاں دیں۔جس کے جواب میں نور عالم خان نے کچھ نہیں کہا۔افطار کے بعد ہم لوگ کھانا لینے کیلیے اٹھےتو ان صاحب کو جاکر کہا کہ آپ نے زیادتی کی ہے،ماں بہن کی گالیاں دی ہیں، اس پر معافی مانگیں تو انہوں نے دوبارہ گالم گلوچ شروع کردی اورہاتھا پائی کی جس پر یہ واقعہ پیش آیا۔

نور عالم خان  اپنی سیکیورٹی کے باعث ایک ماہ سے میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں مقیم ہیں اور ان پر اب تک 3 حملے ہوچکے ہیں ۔

اینکر پرسن عادل شاہ زیب نے دعویٰ کیا ہے کہ حیران کن بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو دو درجن لوگ چھوڑ کر گئے، لیکن کسی اور کا تو بال تک بیکا نہیں ہوا؟ دعویٰ یہ ہے کہ ایک پارٹی سربراہ کی سوئی نورعالم پر اڑ چکی ہے اور یہ پبلک ردعمل نہیں بلکہ باقاعدہ ٹارگٹڈ حملے ہیں۔

نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق نور عالم خان پر مبینہ حملہ  کرنے والا شخص  تحریک انصاف کا باقاعدہ  کارکن نہیں بلکہ ہمدرد ہے جناح سپر مارکیٹ اور سنٹورس شاپنگ مال میں خشک میوہ جات کی دکان چلاتا ہے۔ناظرین وجوہات جوکچھ بھی ہوں، تشدد کی کسی صورت پذیرائی نہیں کی جاسکتی۔دونوں جانب سے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔

عمران خان کا بیانیہ اس قدر مقبول ہورہا ہے کہ ایک عام آدمی انہیں حکومت سے نکالے جانے کے خلاف مرنے مارنے پر اتر آیا ہے۔عمران خان کے بیانیے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات  سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں سیاست سے لاتعلق رہنے والی پڑھی لکھی ایلیٹ کلاس نے بھی جلسے ،جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنا شروع کردی ہے۔

ہفتے کو تحریک  عدم اعتماد کی کامیابی کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اتوار کو کراچی ،لاہور،اسلام آباد،کوئٹہ  اور پشاور سمیت ملک بھر میں ہونےو الے احتجاجی مظاہروں میں پی ٹی آئی قیادت کی عدم موجودگی کے باوجود عوام نے جس طرح بڑھ چڑھ کر حصہ لیا وہ ایک مثال ہے۔خاص طور پررمضان المبارک میں اس قسم کی سیاسی سرگرمیوں کی مثال نہیں ملتی۔ ملک بھر میں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں میں عام آدمی نے کس طرح شرکت کی ۔اس کی کچھ جھلکیاں  یہاں پیش کی جارہی ہیں ۔

شوبز انڈسٹری سے وابستہ شخصیات خود کو سیاست سے دور رکھتی ہیں لیکن یہ بھی پہلی مرتبہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ پاکستانی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کے فنکاروں کی بڑی تعداد نہ صرف سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کو سپورٹ کررہی ہے بلکہ اتوار کو  منعقدہ احتجاجی مظاہروں میں  گلوکار ہارون شاہد،گلوکارہ قرۃ العین بلوچ،گلوکارہ عینی،ادکارہ مریم نفیس سمیت فنکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت۔

عمران خان کے امریکی غلامی نامنظور اور امپورٹڈ حکومت نامنظور کے نعرے کو ناصرف عوام ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں بلکہ لوگ عمران خان کے بیانئے سے اس حد تک منسلک ہوگئے ہیں کہ میڈیا سے وابستہ شخصیات نے پی ٹی آئی کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف میڈیا ہاؤسز کو چھوڑنا شروع کردیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے سینئر اینکر پرسن منصور علی کے  سینئر پروڈیوسر راؤ فیصل نے ایکسپریس نیوز چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ  کیونکہ میں سمجھتا ہوں میڈیا اس امپورٹڈ حکومت کو لانے میں آلہ کار بنا اس لیے میں نے نوکری سے مستعفی ہونے  کا اعلان کیا ہے، آزاد صحافت کا آغاز کررہا ہوں۔

اسی طرح سما ٹی وی سے 7 سال سے وابستہ خاتون رپورٹر نے بھی اپنی ملازمت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ میں سماء سے استعفیٰ دی رہی ہو۔ میں نے سات سال سے سماء نیوز میں ایک رپورٹر کی حیثیت سے سے کام کیا۔۔ سماء نیوز نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا۔ لیکن جب سے علیم خان نے اس چینل کو خریدا۔۔ اس چینل نے تمام اصل اور سچی خبریں چھپائی اور جھوٹ اور پروپیگنڈا کا ساتھ دیا۔

عمران خان کا بیانیہ نئی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کیلیے درد سر بن گیا ہے۔سوشل میڈیا پر حکومت اسٹیبلشمنٹ مخالف ہیش ٹیگ گزشتہ  ایک ہفتے سے ٹاپ ٹرینڈ بنے ہوئے ہیں ۔ایف آئی اے سمیت  حکومتی ادارے سر توڑ کوششوں کے باوجود ان ٹرینڈز کا توڑ نہیں نکال سکے ہیں۔دوسری جانب عمران خان کی بڑھتی مقبولیت نے ن لیگ، پیپلزپارٹی،ایم کیوایم اور جے یوآئی (ف) کیلیے بھی نئی مشکل کھڑی کردی ہےکہ فوری الیکشن کرائے تو عمران خان ملک بھر سے بھاری اکثریت لیکر دوبارہ حکومت میں آجائیں گے اور اگر ایک سال بعدانتخابات کرائے عمران خان حکومت  معیشت کا جو بیڑا غرق کرکے گئی ہے اس کا بوجھ انہیں اٹھانا پڑے گا۔

عمران خان کی کلٹ فالوئنگ کا ایک بڑا منفی پہلو یہ ہے کہ معاشرہ شدید قسم کی تقسیم کا شکار ہے ،عمران خان کی حمایت اور مخالفت میں معاشرہ شدید تقسیم کا شکار ہے۔ بھائی ،بھائی سے  اور دوست ،دوست سے دست و گریباں ہے۔عام آدمی ہو،سیاستدان ہو ،بیوروکریٹ ہویا اسٹیبلشمنٹ کے افسران جو عمران خان کا حامی ہے صرف وہی  محب وطن ہے اور جو عمران خان کا مخالف ہے وہ غدار،امریکا کا غلام اور ملک دشمن ہے۔اس سوچ کا خاتمہ کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

متعلقہ تحاریر