سکھر حیدرآباد موٹروے کی تعمیر، ہائی کورٹ نے این ایچ اے سے گارنٹی مانگ لی
جسٹس امجد علی سہتو کا کہنا تھا ہر پنتیس کلومیٹر پر ٹول پلازہ ہے جہاں پر زبردستی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے لیکن روڈ نہیں بنایا جارہا ہے۔ روزانہ سات سے آٹھ لوگ موت کا شکار ہوتے ہیں

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ سکھر کے جسٹس ارشد خان اور جسٹس اجمد علی سہتو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سکھر حیدرآباد موٹروے کی تعمیر شروع نہ ہونے کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے این ایچ اے کے افسران سے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ حیدر آباد سکھر موٹر وے کی تعمیر کا کام کیوں شروع نہیں ہوا ہے پورے ملک میں موٹر وے بن گئی ہے مگر سندھ کا موٹروے کیوں نہیں بنا۔
یہ بھی پڑھیے
اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کےلیے انتخاب کا شیڈول جاری
سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سے قبل سیاستدان بھی پاک فوج کی کردار کشی کرتے رہے
عدالت کے روبرو جواب دیتے ہوئے این ایچ اے کے نمائندہ نے عدالت کو بتایا کہ ٹیکنیکل وجوہات کی بنا پر کام شروع نہیں ہوسکا ہے تاہم اب ایک کمپنی نے اس پر کام کرنے کی رضامندی ظاہر کردی ہے ، اس لیے اب جلد اس پر کام شروع ہو جائے گا۔
جس پر عدالت نے این ایچ اے حکام سے کام جلد شروع ہونے کے حوالے سے تحریری گارنٹی مانگ لی۔ اس موقع پر جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ این ایچ اے کا سندھ سے الگ سلوک کیوں ہے۔ سندھ کا نیشنل ہائی وے موت کا کنواں بنا ہوا ہے۔
جس روڈ پر بھی چلے جائیں ایسے خطرناک گڑھے پڑے ہوئے ہیں چلتے ٹرک اور ٹرالیاں دوسری گاڑیوں پر گر جاتی ہیں۔ جام شور و سیہون روڈ پر روزانہ حادثات ہو رہے ہیں۔
جسٹس امجد علی سہتو کا کہنا تھا ہر پنتیس کلومیٹر پر ٹول پلازہ ہے جہاں پر زبردستی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے لیکن روڈ نہیں بنایا جارہا ہے۔ روزانہ سات سے آٹھ لوگ موت کا شکار ہوتے ہیں سندھ میں تو دو روڈ ہیں لیکن انہیں کئی سالوں سے نہیں بنایا جاسکتا اس لیے لکھ کر دیا جائے کہ 30 جون تک جام شورو سیہون روڈ مکمل کیا جائے گا۔
اس موقع پراین ایچ اے کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ وقت دیا جائے تاکہ پراجیکٹ پر کام شروع کیا جائے۔
عدالت نے انتباہ کیا کہ اگر عدالت کے احکامات پر عمل نہ ہوا تو سیکرٹری کمیونیکشن اور چیئرمین این ایچ اے کو طلب کیا جائے گا۔
بعد ازاں عدالت نے سماعت 17 مئی تک ملتوی کردی۔









