ہائی کورٹ کا سندھ حکومت کو جے ایس ٹیچر بھرتی کرنے کا حکم

عدالت عالیہ نے ریمارکس دیئے کہ سندھ میں انیس ہزار جے ایس ٹی بھرتی کیے جائیں گے سندھ حکومت یہ بھرتیاں میرٹ پر کرے۔

سکھر: سندھ ہائی کورٹ نے جے ایس ٹی (ٹیچر) کی بھرتیوں پر حکم امتناعی ختم کردیا، سندھ حکومت کو جلد بھرتیاں کرنے کا حکم ، پرائمری اساتذہ کی پٹیشن خارج کردی۔

تفصیلات کےمطابق سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جنید غفار اور جسٹس ذوالفقار سانگی پر مشتمل بینچ نے پرائمری اساتذہ کی جانب سے جے ایس ٹی کے عہدوں پر ترقی نہ ملنے کے خلاف داخل آئینی پٹیشن کی سماعت۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا شیڈول جاری

سکھر حیدرآباد موٹروے کی تعمیر، ہائی کورٹ نے این ایچ اے سے گارنٹی مانگ لی

سماعت کے دوران اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل علی رضا بلوچ نے سندھ حکومت کی جانب سے جے ایس ٹی کی بھرتیوں کے حوالے سے ترتیب دی گئی پالیسی عدالت میں پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ جے ایس ٹی کی بھرتی جدید سائنسی بنیادوں پر کی جارہی ہے اس لیے پرائمری اساتذہ کو جے ایس ٹی کے عہدے پر نہیں لایا جاسکتا۔

اس موقع پر پٹیشنرز کے وکلاء نے بھی دلائل دیئے عدالت عالیہ کے ججز نے دونوں اطراف کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد جے ایس ٹی کی بھرتیوں پر دیا گیا عدالت کا حکم امتناعی واپس لے لیا اور اندھ حکومت کو فوری طور پر جے ایس ٹی کی بھرتیاں کرنے کی ہدایت کردی۔

اس موقع پر عدالت عالیہ نے ریمارکس دیئے کہ سندھ میں انیس ہزار جے ایس ٹی بھرتی کیے جائیں گے سندھ حکومت یہ بھرتیاں میرٹ پر کرے عدالت عالیہ نے فیصلہ سناتے ہوئے پرائمری اساتذہ کی داخل پٹیشن بھی خارج کردی ہے۔

متعلقہ تحاریر