پی ٹی آئی نے منحرف ایم این ایز کی تاحیات نااہلی کے لیے درخواست دائر کردی
ماہرین کا قانون کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ نہ دینے کی وجہ سے ان پر آئین سے انحراف کی شق کا استعمال نہین ہوتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے منحرف ایم این ایز کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دائر کردی ہے۔
ڈاکٹر بابر اعوان اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (اے او آر) احمد نواز چوہدری کی طرف سے تیار کردہ درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ترجمان پاک فوج کا بیان جمہوریت کیلیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے،بلاول بھٹو
تاریخی جلسے پر عمران خان کا پشاور کے عوام کا شکریہ
درخواست میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP)، اسپیکر قومی اسمبلی، سیکرٹری وزارت قانون، اور کابینہ سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان قومی اسمبلی کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے۔
پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ ’’اگر کوئی رکن پارٹی چھوڑنا چاہتا ہے تو اسے آئین کے آرٹیکل 63-A کے مطابق کسی دوسری سیاسی جماعت کے حق میں وفاداری تبدیل کرنے کا حق نہیں ، اگر اسے دوسری پارٹی کو ووٹ دینا ہے تو اسے پہلے قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے استعفیٰ دینا چاہیے۔‘‘
درخواست میں کہا گیا کہ وفاداریاں بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ فرد صادق اور امین (سچ اور ایماندار) نہیں رہا۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے 20 سے زائد منحرف ارکان اسمبلی نے گزشتہ اتوار کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔
ماہرین کا قانون کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ نہ دینے کی وجہ سے ان پر آئین سے انحراف کی شق کا استعمال نہین ہوتا ہے۔
مشترکہ اپوزیشن نے جان بوجھ کر پی ٹی آئی کے ناراض ایم این ایز کو کسی بھی قانونی کارروائی سے بچانے کے لیے ووٹنگ سے دور رکھا تھا۔ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کے عمل میں صرف سٹینڈ بائی ووٹرز کا کردار ادا کیا۔









