ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان میں بیرونی مداخلت کی تائید کردی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سفارتی کیبل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں ”سازش“کا نہیں کھلم کھلا مداخلت کا ذکر کیاگیا ہے

ڈی جی  آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار   نے  پاکستان میں امریکی مداخلت  سے  متعلق سفارتی کیبل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں  سازش کا ذکر نہیں  بلکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلامداخلت  کا ذکر ہے  اور اسی حوالے سے ڈی مارچ جاری کیا گیا ہے۔

افواج پاکستان کےشعبہ تعلقات عامہ کے  ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے موجودہ سیاسی بحران کے درمیان گزشتہ روز ایک اہم پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ملک میں فوج کا کوئی سیاسی کردار نہیں اور نہ ہی آزاد عدلیہ پر کوئی اثر و رسوخ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آرمی چیف ایکسٹنشن قبول نہیں کریں گے، 29 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے، ترجمان پاک فوج

عمران خان کے جلسے کی کوریج ‘اے آروائی ‘ نے تمام چینلز کو پیچھے چھوڑدیا

مبینہ دھمکی آمیز خط کے بارے میں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے مراسلے میں سازش کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے  ، اسی حوالے امریکی سفارت کار کوایک ڈی مارچ بھی دیاگیا تھا جس کامقصد سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے تحریک انصاف  کی حکومت گرانے کی سازش رچائی تھی جسے سفارتی کیبل کے ذریعے بے نقاب کیا گیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے قبل تحریک انصاف کے سیاسی حریفوں اور کئی سرکردہ صحافیوں نے دھمکی آمیز خط کو جعلی قرار دیا تھا تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر کی  پریس نے دھمکی آمیز خط کی صداقت کو ثابت کردیا ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کامزید  کہنا تھا کہ امریکا نے پاکستان سے  فوجی اڈوں کا مطالبہ نہیں کیا، اگر پاک فوج سے اڈوں کا مطالبہ کیاجاتا تو ہمارا جواب بھی ایبسولوٹلی ناٹ ہوتا۔جون 2021 میں امریکی میڈیا کوایک انٹرویوکے دوران سابق  وزیر اعظم عمران خان سے سوال کیاگیا تھا کہ کیا پاکستان انسداد دہشت گردی کی کارروائیون کیلیے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے گا؟ جس کے جواب میں عمران خان نے ایبسولوٹلی ناٹ کہا تھا۔ عمران خان کا یہ بیان ان کے سخت موقف کی وجہ سے عالمی میڈیا کی سرخیوں کی زینت بن گیا تھا۔

جنوری 2012 میں عمران خان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ امریکا: ہم آپ کے دوست رہیں گے، آپ کے غلام نہیں۔ ہم افغانستان سے انخلا میں آپ کی مدد کریں گے لیکن آپ کے لیے فوجی آپریشن نہیں کریں گے۔

نیویارک ٹائمز   کے 6 جون کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ دونوں افسران کے درمیان انسداد دہشت گردی  میں تعاون کے امکان پر تبادلہ خیال کیا گیاتھا۔

پاکستان کے موقر انگریزی روزنامہ ڈان  نے بھی سرکاری حکام کے حوالے سے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے پاکستان کے خفیہ دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے  امریکا کو ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دے گا ۔تاہم اہم بات یہ ہے کہ  حکومت  پاکستان اور فوج نے اس ملاقات کی تردید جاری نہیں کی تھی۔اس مضمون میں امریکی فوجی اڈے حاصل کرنے کے لیے پاکستانی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے رابطے کا اشارہ دیا گیا تھا لیکن اس کی تردید کی گئی۔

متعلقہ تحاریر