ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس کے دوران بھی عمران خان موقف پر ڈٹے رہے

عمران خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے دوران 2 ٹوئٹس میں اپنی حکومت کے خاتمے کو امریکی سازش کا نتیجہ قراردیا

ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار  کی پریس کانفرنس کے دوران بھی سابق وزیراعظم عمران خان اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے اور اپنی حکومت کی تبدیلی کو امریکی سازش کا نتیجہ قرار دے دیا۔

میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس کے دوران پاکستان تحریک انصاف  کے چیئرمین عمران خان نے  اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ہمارےجلسےکو تاریخی اورعظیم الشان بنانےکیلئےپشاور میں نکلنےوالےتمام لوگوں کا تہہ دل سےمشکورہوں۔

یہ بھی پڑھیے

ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس بھی حکومت مخالف ہیش ٹیگ نہ رکواسکی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان میں بیرونی مداخلت کی تائید کردی

عمران خان نے مزید لکھا کہ ایک آزاد پاکستان کی حمایت میں اپنےولولے اور  ارادےکااظہارکرنے اورمجرموں کواقتداردلوانےکیلئےامریکی شہ پرحکومت کی تبدیلی یکسرمسترد کرنےوالا یہ مجمع اس امر کا ثبوت ہےکہ قوم کہاں کھڑی ہے۔

ایک اور ٹوئٹ میں عمران خان نے لکھا کہ میں اپنے 123 ایم این ایز کامشکورہوں جن کے استعفےٰآج سپیکرقاسم سوری نےمنظورکیے۔یہ لوگ عدالتوں سےسزافتہ اورضمانتوں پرگھومنےوالےمجرموں کو اقتدار دلوانے کے لیےامریکی اشارےپرحکومت کی تبدیلی،عزتِ نفس کی حامل ایک آزاد قوم کیلیے انتہائی درجےکی ہزیمت کیخلاف ایک خودمختار پاکستان کیساتھ ڈٹ کرکھڑےہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے گزشتہ روز  پریس کانفرنس کے دوران سفارتی کیبل کی سچائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں سازش  کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کا لفظ استعمال کیاگیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ملک میں فوج کا کوئی سیاسی کردار نہیں اور نہ ہی آزاد عدلیہ پر کوئی اثر و رسوخ ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے تحریک انصاف  کی حکومت گرانے کیلیے سازش رچائی تھی جسے سفارتی کیبل کے ذریعے بے نقاب کیا گیا تھا تاہم عمران خان کے  سیاسی حریفوں نے دھمکی آمیز خط کو جعلی قرار دیا تھا۔

متعلقہ تحاریر