تحریک انصاف کی حکومت جاتے ہی ن لیگ کے گلو بٹ آزاد ہوگئے

لاہور میں مبینہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خواجہ سلمان رفیق اور حافظ نعمان کے گارڈز نے  فوجی افسر میجر حارث کو معمولی تنازع پر شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا، واقعے میں ملوث ملزمان گرفتار، سلمان رفیق اور حافظ نعمان نے بھی گرفتاری دیدی

تحریک انصاف کی حکومت جاتے ہی ن لیگ کے گلو بٹ آزاد ہوگئے۔لاہور میں مبینہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خواجہ سلمان رفیق اور حافظ نعمان کے گارڈز نے  فوجی افسر میجر حارث کو معمولی تنازع پر شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا ۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعہ بدھ کو لاہور کے کلمہ چوک کے قریب پیش آیا ہے،فوجی اہلکار پر تشدد کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیاگیا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق، گرفتار افراد مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے کارکن نکلے۔پرتشدد واقعے کے بعد خواجہ سلمان رفیق اور حافظ نعمان نے فوجی افسر سے معافی مانگ لی ۔

یہ بھی پڑھیے

ناظم جوکھیو قتل کیس میں اہم پیش رفت،جام برادران کے نام چالان سے خارج

حافظ سعید کو غیرقانونی فنڈنگ کے مقدمات میں 31برس قید کی سزا

ایک پریس کانفرنس میں سلمان رفیق نے اپنے خلاف پی ٹی آئی کارکنوں کے مبینہ سوشل میڈیا ٹرینڈ پر تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے جھوٹی کہانیاں پھیلا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ابتدائی طور پر اپنے سیکیورٹی گارڈز کے فوجی افسر  کے ساتھ جھگڑے سے لاعلم تھے اور بعد میں انہیں اپنے پی اے سے ٹیلی فون کال کے ذریعے واقعہ کا علم ہوا۔ گزشتہ روز رفیق اور نعمان نے مقدمے میں نامزد ہونے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

لیگی رہنمانے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے عملے کو پولیس کے حوالے کردیا ہے اور آج خود کو قانون کے حوالے کرنے آئے ہیں تاکہ تحقیقات میں واقعے  کی حقیقت سامنے آسکے۔ حافظ نعمان نے کہا کہ وہ اپنا دفاع نہیں کر رہے اور خود کو قانون کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

زخمی فوجی افسر نے درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ انہیں سلمان رفیق اور حافظ نعمان کی ہدایت پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے  جو جائے وقوعہ پر دوسری گاڑی میں بیٹھے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملازمین  اپنے مالکان  سے اجازت لیے بغیر ان پر تشدد نہیں کر سکتے ۔

متعلقہ تحاریر