پاکستان کی تلخ یادوں نے جمائمہ کا ساتھ نہ چھوڑا
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عمران خان کے خلاف احتجاج کیلیے جمائمہ کے گھر کا انتخاب کیا گیا ہے، جمائمہ نے افسوس کا اظہار کیا۔
عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈاسمتھ نے اپنے گھر کے باہر 17 اپریل کو طے شدہ احتجاجی مظاہرے کا پوسٹر شیئر کرتے ہوئے پاکستان میں گزارے گئے برے دنوں کو یاد کیا۔
جمائمہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میرے گھر کے باہر احتجاج، میرے بچوں کو نشانہ بنایا، یہودیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز باتیں کرنا، یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ میں 90 کی دہائی کے لاہور میں پہنچ گئی ہوں۔
Protests outside my house, targeting my children, antisemitic abuse on social media…. It’s almost like I’m back in 90s Lahore. #PuranaPakistan pic.twitter.com/0R2YOPcQrJ
— Jemima Goldsmith (@Jemima_Khan) April 15, 2022
یہ ٹویٹ کرتے ہوئے جمائمہ نے ہیش ٹیگ پرانا پاکستان بھی لکھا، عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ ان کی پہلی پوسٹ ہے۔
عمران خان اور جمائمہ گولڈاسمتھ کی شادی 1995 سے 2004 تک رہی تھی۔ دونوں کے دو بچے ہیں۔
عمران خان سے طلاق کے بعد جمائمہ نے پاکستان چھوڑ کر لندن میں سکونت اختیار کرلی تھی۔
کئی انٹرویوز میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح ان کو یہودی ہونے کی بنا پر نفرت انگیز جملوں سے نشانہ بنایا جاتا تھا۔
My kids are “being raised in the lap of the Jews,” announced @MaryamNSharif today.
I left Pakistan in 2004 after a decade of antisemitic attacks by the media & politicians (& weekly death threats & protests outside my house). But still it continues https://t.co/TGjUxfT1gC— Jemima Goldsmith (@Jemima_Khan) July 19, 2021
جمائمہ نے پچھلے سال بھی ایک ٹویٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے مریم نواز شریف کی تقریر کا ایک جملہ شیئر کیا، میرے بچے ‘یہودیوں کی گود میں پل رہے ہیں’۔
جمائمہ نے کہا کہ میں نے 2004 میں پاکستان چھوڑ دیا تھا، پورے دس سال تک مجھ پر یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز جملوں سے حملہ کیا گیا۔
میڈیا اور سیاستدان اس میں ملوث تھے، ہر ہفتے ہی مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتیں اور میرے گھر کے باہر احتجاج ہوتا، اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔









