شیری مزاری  نے آئی ایس پی آر کے بیان کی تردید کردی

عمران خان نے سیاسی ڈیڈ لاک میں مصالحت کے سلسلے میں فوج کو مدد کیلئے نہیں بلایا تھا

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے فوج کو مدد کیلئے نہیں بلایا تھا بلکہ فوج نے وزیردفاع کے توسط سے ملاقات کا وقت مانگا اور عمران خان کے سامنے تین آپشن رکھے  تھے ۔

تفصیلات کے  مطابق  سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اور پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر آئی ایس پی آر کی جانب سے  دو روز قبل ہونے والی پریس بریفنگ پر اپنے ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے فوج کو مدد کیلئے نہیں بلایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

خواجہ آصف نے ٹریکٹر ٹرالی کے بعد شیرین مزاری کو مرد قرار دے دیا

شیریں مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدالتی بغاوت قرار دیدیا

شیریں مزاری کا کہنا تھاکہ وضاحت کرنا چاہتی ہوں اور ریکارڈ پر لانا چاہتی ہوں کہ عمران خان نے سیاسی ڈیڈ لاک میں مصالحت کے سلسلے میں فوج کو مدد کیلئے نہیں بلایا تھا۔انہوں نے کہا کہ فوج نے اُس وقت کے وزیر دفاع کے ذریعے میٹنگ طلب کی جس میں ان کی جانب سے تین آپشن سامنے رکھے گئے۔

شیریں مزاری نے سوال کیا کہ عمران خان کئی بار کہہ چکے تھے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے پھر عمران خان استعفے کا آپشن کیوں دیں گے؟ اس بات کی کوئی تُک نہیں بنتی۔ان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے عدم اعتماد کو صاف مسترد کردیا تھا ،، پھر وہ یہ آپشن سامنے کیوں رکھتے؟ یہ نہایت مضحکہ خیز بات ہے ۔

متعلقہ تحاریر