پاکستان تحریک انصاف معاشرے کے ہر طبقے کی آواز بن گئی

 فیکٹری مالکان ہوں یا مزدور، زمیندارں  ہوں یا کھیتوں میں کام کرنے والے کسان، گھریلو خواتین ہوں یا ورکنگ ویمن ہر طبقہ عمران خان کی حمایت میں کمربستہ ہے

پاکستان تحریک انصاف کو پاکستانی معاشرے کے ہر طبقے  کی نمائندہ جماعت بن گئی۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد عمران خان  نے عوام کو سڑکوں پر آنے کی کال دی تو معاشرے کا ہر طبقہ عمران خان کا ہمنوا بن گیا۔

 فیکٹری مالکان ہوں یا مزدور، زمیندارں  ہوں یا کھیتوں میں کام کرنے والے کسان، گھریلو خواتین ہوں یا ورکنگ ویمن ہر طبقہ عمران خان کی حمایت میں کمربستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بلی تھیلے سے باہر آگئی، زرداری نے ساراحکومتی بوجھ نون لیگ پر ڈال دیا

شیری مزاری  نے آئی ایس پی آر کے بیان کی تردید کردی

صرف یہی نہیں  مذہبی اعتبار سے بھی تحریک انصاف کا طرہ امتیاز ہے کہ ایک طرف اسے لبرل اور لادین طبقے کی حمایت  حاصل ہے تو دوسری طرف دیندار طبقہ بھی کھل کر تحریک انصاف کی حمایت کررہا ہے۔تحریک انصاف کے جلسوں میں جہاں جینز ،شرٹ پہننے والاطبقہ نظر آتا ہے تو وہیں  ڈاڑھی اور برقع والا طبقہ بھی نظر آتا ہے۔

تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں میں عوامی شمولیت کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ہفتے جب عمران خان  نے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی کے بعد ملک گیر احتجاج کی کال دی تو ملک کے کونے کونے میں عوام گھروں سے باہر نکل آئے اور تحریک انصاف کی قیادت کی عدم موجودگی کے باوجود بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ان مظاہروں میں عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا اس کی چند جھلکیاں آپ کیلیے پیش خدمت ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا طرہ امتیاز ہی یہ ہے کہ انہوں نے معاشرےکے ان طبقات کو سیاست میں متحرک کیا ہے جو اس سے قبل سیاست سے لاتعلق  تھے۔ڈاکٹرز،انجینئرز،آرکیٹیکٹس، چارٹرڈ اکاؤنٹٹس اور بینکرز سمیت پڑھا لکھا طبقہ تحریک انصاف کو کھل کرسپورٹ کررہا ہے۔ جولوگ الیکشن کے دن چھٹی کے باوجود ووٹ ڈالنے کیلیے نہیں نکلتے وہ رمضان المبارک کے باوجود تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہورہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر