احسن اقبال کا بیان کیوبا کیلیے پاکستان کے اصل جذبات کا ترجمان نہیں

کیوبن سفیر نے نہایت نرم لہجے میں وفاقی وزیر کے بیان کی مذمت کی، احسن اقبال نے کہا تھا پاکستان کو کیوبا نہیں بنانا چاہتے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کو کیوبا اور شمالی کوریا نہیں بنانا چاہتے، پاکستان کو ملائیشیا، ترکی اور چین بنانا ہے۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت چار طریقوں سے بہتر ہوسکتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ چین کے تعاون کے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی، یورپی یونین کی طرف سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنا بھی اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا ہماری مصنوعات اور درآمدات کی بڑی منڈی ہے جبکہ چوتھا ستون برادر خلیجی ممالک ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہمارے ساتھ تعاون کیا۔

احسن اقبال کے بیان پر کیوبا کے پاکستان میں تعینات سفیر زینیر کارو نے رد عمل دیتے ہوئے ٹویٹ کی۔

کیوبن سفیر نے کہا کہ خوش قسمتی کے ساتھ، احسن اقبال کا کیوبا کو اپنی پریس کانفرنس میں بےعزتی سے ذکر کرنا کیوبا کے لیے پاکستان کے اصل جذبات کی ترجمانی نہیں کرتا۔

کیوبا کے سفیر کی طرف سے بہت مناسب ردعمل دیا گیا، انہوں نے نا تو پاکستان کی بےعزتی کی نا ہی حکومتِ پاکستان کی۔

لیکن حکومت اور بالخصوص وزرا کو یہ سوچنا چاہیے کہ کسی بھی ملک کے بارے میں غیرمحتاط گفتگو نہ کریں۔

بلکہ پاکستان کی تمام سیاسی قیادت کو ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہوئے کسی بھی دوسرے ملک کی پالیسی یا کارکردگی کو زیر بحث نہیں لانا چاہیے۔

متعلقہ تحاریر