9ماہ میں مالیاتی خسارہ 0.4فیصد اضافے سے 2565ارب روپے ہوگیا
گزشتہ مالی سال کے 9 ماہ کے مقابلے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں 0.2فیصد اضافہ،گزشتہ مالی سال کے 369ارب کے مقابلے میں رواں مالی سال پٹرولیم لیوی کی مد میں صرف 125ارب روپے جمع ہوئے

مالی سال 2022 کے 9 ماہ کے دوران مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 4 فیصد پر موجود ہے۔گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 3.6فیصد تھا۔ رواں مالی سال کے 2565ارب روپے کےمقابلے میں گزشتہ مالیاتی سال خسارہ 2103ارب روپے تھا۔
رواں مالی سال کے 9 ماہ میں وفاقی محصولات کی وصولی 4383 ارب روپے رہی جبکہ صوبوں سے محصولات کی مد میں وصولی 438ارب روپے جمع ہوئے جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 3394ارب روپے کی وفاقی محصولات موصول ہوئی تھیں جن میں صوبوں کا حصہ 370 ارب روپے تھا۔
یہ بھی پڑھیے
معیشت کے مثبت اعشاریے سابقہ حکومت کی شاندار کارکردگی کے مظہر
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل جدید دور کے بزنس آئیڈیاز سے نابلد نکلے
رواں مالی سال کے 9 ماہ کے دوران جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کی شرح 9.2فیصد رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ شرح 9 فیصد تھی۔
رواں مالی سال ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں 1579 ارب روپے جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں2805ارب روپے جمع کیے گئے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں 1256ارب روپے اور ان ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں 2149ارب روپے جمع ہوئے۔
رواں مالی سال کسٹمز کی مد میں 715 ارب روپے جبکہ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں کسٹمز کی مد میں 541 ارب روپے جمع ہوئے جبکہ سیلز ٹیکس کی مد میں 1866 ارب روپے جمع ہوئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں سیلز ٹیکس کی مد میں 1416ارب روپے جمع ہوئے تھے۔
مالی سال 2022 کے 9 ماہ میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 125ارب روپے جمع ہوئے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 369ارب روپے جمع ہوئے تھے۔
رواں مالی سال کے 9 ماہ میں سود کی مد میں 2118ارب روپے کی ادائیگی کی گئی جبکہ دفاعی اخراجات 883ارب روپے رہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں سود کی مد میں 2103ارب روپے کی ادائیگی کی گئی تھی جبکہ دفاعی اخراجات 783ارب روپے رہے تھے۔









