وزیر خارجہ بلاول بھٹو کو سفارتی محاذ پر بےشمار چیلنجز کا سامنا
گزشتہ روز بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ کے عہدے کا حلف لیا، امریکا سے تعلقات کی بحالی، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ متوازن پالیسی بڑا چیلنج ہوگا۔

گزشتہ روز چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے 37 ویں وزیر خارجہ کا حلف لے لیا، بلاول بھٹو سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے حلف لیا اور وزیراعظم شہباز شریف بھی اس تقریب میں موجود تھے۔
بلاول بھٹو ایک ایسے وقت میں وزیر خارجہ بنے ہیں کہ جب سفارتی محاذ پر پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے خلاف مبینہ امریکی سازش کا ذکر کر کے امریکا کو پاکستان سے دور کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کے سیاسی تدبر کا اندازہ اب لگایا جائے گا کہ جب وہ امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوشش کریں گے۔
2019 میں بھارت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی، اس کے بعد سے کشمیر کے حالات زیادہ ہی کشیدہ ہو گئے ہیں۔
نئے وزیر خارجہ کو روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں بھی واضح موقف اختیار کرنا ہوگا۔
پاکستان کی پالیسی واضح ہونی چاہیے کہ آیا وہ روس کے ساتھ ہے یا یوکرین کی حمایت کرتا ہے۔
جامعہ کراچی میں دو روز قبل ہونے والے دھماکے کے بعد چین نے بھی غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری پر کام کی رفتار کے حوالے سے پہلے ہی چین پاکستان سے نالاں تھا۔
تجزیہ کاروں نے کہا کہ برادر مسلم ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر نظرثانی کرنا بھی بلاول بھٹو کیلیے بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔
سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو کس طرح توازن برقرار رکھیں گے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔
تجزیہ کاروں نے بتایا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو کبھی بھی سعودی عرب نے سرکاری دورے پر مدعو نہیں کیا تھا۔
آصف علی زرداری نے بطور صدر ایران کے کئے دورے کیے تھے لیکن سعودی عرب نے ان کو مدعو نہیں کیا تھا۔









