لیگی حکومت میں گھروں کی بجائے سڑکوں اور فٹ پاتھز پر بجلی کا ضیاع
سوشل میڈیا پر لاہور شہر کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی جس میں شہر بھر لائٹوں سے جگمگا رہا جبکہ ملک میں 3200 میگا واٹ کا شارٹ فال ہے۔
ایک جانب ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 3 ہزار میگا واٹ سے تجاوز کرگیا ہے وہیں دوسری جانب لاہور کے زمان ٹاؤن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں سڑک کے دونوں اطراف فینسی لائٹوں اور برقی قمقموں سے زبردست لائیٹنگ کی گئی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر داور بٹ نامی صارفین نے ویڈیو شیئر کی ہے جس کے کیپشن میں لکھا "لاہور آفٹر مڈنائٹ۔”
ویڈیو میں بی آر بی نہر کا منظر دکھایا گیا ہے جہاں سڑک کے دونوں اطراف انتظامیہ کی جانب سے زبردست لائٹنگ کی گئی ہے۔ ویڈیو میں مینار پاکستان کو بھی دکھایا گیا ہے جبکہ بادشاہی مسجد کی عکس بندی بھی کی گئی ، مینار پاکستان بھی روشنی میں نہایا ہوا جبکہ بادشاہی کو فینسی لائٹوں سے سجایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
آئی جی پنجاب کی تبدیلی کیلیے صوبائی حکومت کا وفاق کو خط
ویڈیو میں لاہور کا مشہور حویلی ریسٹورنٹ بھی دکھایا گیا ہے ، جبکہ فوڈ اسٹریٹ بھی دکھائی گئی ہے۔
Lahore, after midnight pic.twitter.com/pcv38IynTk
— Dawar Butt (@theLahorewala) May 1, 2022
داور بٹ نے لکھا ہے کہ ” زیادہ تر ٹریفک اب بھی پرانے مقبول علاقوں، مین بازار، ہال روڈ، انارکلی، داتا دربار میں ہے۔”
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف ملک میں لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط ہے تو دوسری طرف رات کے وقت اس قدر لائٹنگ کرکے دنیا بھر میں پاکستان کا مذاق بنایا جارہا ہے۔
ایک ٹوئنکل نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ہے کہ ” ایک طرف روز روز کی لوڈ شیڈنگ، پھر قرضے واپس کرنے کے پیسے نہیں، لاکھوں لوگ خط غربت سے نیچے، تو یہ سب تماشہ کیوں؟ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، پاکستانیوں کو یونانیوں کی طرح پُرسکون نہیں ہونا چاہیے۔؟
وزارت توانائی کا کہنا ہے ملک میں اس وقت بجلی کا شارٹ فال 3200 میگا واٹ ہے ، بجلی کی مجموعی پیداوار 18 ہزار 800 میگا واٹ ہے جبکہ طلب 22 ہزار میگا واٹ ہے۔
ملک میں جب اتنا بڑا بجلی کا شارٹ فال تو پھر لاہور جیسے شہر میں اتنی لائٹنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے اور وہ بھی رات کے پچھلے پہر میں۔
پنجاب کے درجنوں شہروں اور دیہاتوں میں 12 سے 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے ، اگر ہم لاہور جیسے بڑے شہر میں فضول بجلی کو ضائع کرنا بند کردیں گے تو دیگر شہروں اور دیہاتوں میں ختم نہ سہی لیکن لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرسکتے ہیں، لیکن یہ حکومتی عہدیداروں کے سوچنے کی بات ہے۔ نہی تو ایک لاوا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔









