اپریل 2022، مہنگائی دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
پاکستان شماریات بیورو کی رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں سالانہ 15.98 فیصد اضافہ ہوا۔

پاکستان شماریات بیورو کی اتوار کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس کے تحت پاکستان میں افراط زر پچھلے سال کے مقابلے میں 13.37 فیصد پر پہنچ گیا ہے، یہ دو سال کی بلند ترین سطح ہے۔
مارچ 2022 میں مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 12.7 فیصد اضافہ ہوا۔
جنوری 2020 کے بعد سے اب تک کے کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق یہ سب سے زیادہ افراط زر ہے۔
پاکستان شماریات بیورو کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں میں مہنگائی بالترتیب 1.6 فیصد اور 1.63 فیصد بڑھی۔
مقررہ میعاد والی اشیائے خورونوش 29.57 فیصد اضافے کے ساتھ مہنگائی کا سبب بنیں۔
ٹرانسپورٹ میں 28.34 فیصد اور مقررہ میعاد نہ ہونے والی اشیائے خورونوش میں 15.02 فیصد اضافہ ہوا۔
کپڑے اور جوتوں میں 10.84 فیصد، فرنیچر اور گھریلو سامان میں 14.66 فیصد، صحت 10.37 فیصد، ریسٹورینٹ اور ہوٹل 14.57 فیصد اور متفرق اشیا میں 12.76 فیصد اضافہ ہوا۔
مکانات کی قیمتوں میں 7.05 فیصد، مواصلات میں 1.61 فیصد، تفریح اور ثقافت میں 9.65 فیصد اور تعلیم کی قیمتوں میں 8.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
شہری علاقوں میں مہنگائی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں سالانہ 15.98 فیصد اور دیہی علاقوں میں 18.23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپریل 2022 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور یہ اس وقت ہوا جب شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں۔
شہباز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) کے رہنما یہ دعوے کرتے نہیں تھکتے تھے کہ جیسے ہی حکومت ملی ملک میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا لیکن اب سرکاری محکمے ہی کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی بلند ترین سطح پر ہے۔









