وائٹ ہاؤس میں عید کی تقریب، عروج آفتاب نے مولانا رومی کا کلام پڑھ کر سنایا

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں عید الفطر کی تقریب منانے کا مقصد مذہبی رواداری اور آپسی محبت کو فروغ دینا ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی جانب سے مذہبی رواداری کو فروغ دینے کے لیے وائٹ ہاؤس میں عیدالفطر کی تقریب منائی گئی ، امریکی صدر نے اس موقع پر امریکی ترقی میں مسلمانوں کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "مسلمان ہماری قوم کو ہر دن مضبوط بناتے ہیں، یہاں تک کہ جب بھی انہیں ہمارے معاشرے میں حقیقی چیلنجز اور خطرات کا سامنا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بھارتی نژاد امریکی نند ملچندانی سی آئی اے کے پہلے سی ٹی او مقرر

وزیراعلیٰ آسام کی مسلمانوں کی ایک سے زیادہ شادی پر پابندی کی تجویز

انہوں نے کہا ٹارگٹڈ تشدد اور اسلام فوبیا کے باوجود مسلمانوں نے حیران کن طور پر اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

تقریب میں خاتون اول جل بائیڈن اور واشنگٹن ڈی سی میں ’دی نیشنز مسجد‘ کے نام سے مشہور مسجد محمد کے امام ڈاکٹر طالب شریف بھی موجود تھے۔ امریکی نائب صدر کملا ہیرس کورونا وائرس کی وجہ سے تقریب میں شرکت کرنے سے محروم رہیں۔ گزشتہ ہفتے ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

حال ہی میں گریمی ایوارڈ جیتنے والی پاکستانی گلوکارہ اور موسیقار عروج آفتابنے 13ویں صدی کے صوفی شاعر جلال الدین رومی کی رباعی "وعدہ” پڑھ کر سنائی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Arooj Aftab (@aroojaftab)

بروکلین ، نیویارک میں مقیم عروج نے 3 اپریل کو لاس ویگاس میں ایک شاندار تقریب میں حفیظ ہوشیار پوری کی غزل "محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے” کو بہترین کارکردگی کے ایوارڈ گریمی سے نوازا گیا تھا۔

واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی استقبالیہ تقریب میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے سفارتی ارکان کے ساتھ شرکت کی۔ وائٹ ہاؤس کی تقریب کے مہمانوں میں کیمبرج، میساچوسٹس، میئر سنبل صدیقی اور نیو جرسی کی رکن اسمبلی صدف جعفر سمیت دیگر شامل تھے۔

حاضرین میں امریکی فارن سروس کے ارکان ، کانگریس کے دو مسلمان ارکان – آندرے کارسن اور راشدہ طلیب کے ساتھ ساتھ ممتاز مسلمان امریکی مفکر اور دیگر رہنما بھی شامل تھے۔

امریکی صدر بائیڈن نے اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے خاتمے کے بعد وائٹ ہاؤس میں عید الفطر کی تقریبات کو بحال کر دیا۔

صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ "انہوں نے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے وعدہ کیا تھا کہ وہ وائٹ ہاؤس میں عید الفطر کے موقع کو واپس لائیں گے لیکن کورونا وائرس وبائی امراض کی وجہ سے انہیں گزشتہ سال ورچوئل تقریب منعقد کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "ہم نے دیکھا کہ آج دنیا بھر میں بہت سے مسلمانوں کو دیکھا تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، مگر ہم نہیں چاہتے کہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے اور نہ ہم کسی کے ساتھ ظلم کو پسند کرتے ہیں۔ نہ ہی ان کے مذہبی عقائد کے لیے دباؤ ڈالا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بیرون ملک اور یہاں اندرون ملک بہت سا کام کرنا ابھی باقی ہیں۔

امام طالب شریف نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں میزبانی ہماری قوم اور دنیا کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔

امام طالب شریف کا کہنا تھا "یہ بیان کہ اسلام ہماری قوم کا دیگر تمام مذہبی روایات کے ساتھ ایک خوش آئند حصہ ہے۔ اور یہ کہ اس سرزمین کا اعلیٰ ترین عہدہ ہماری قوم کی بنیادی اقدار اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے قوانین کا پابند ہے۔”

متعلقہ تحاریر