گورنر پنجاب نے عدلیہ کو نشانے پر رکھ لیا،جج کیخلاف ریفرنس لانے کااعلان
عدالت کا غلط استعمال کیا گیا، آئین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے جس کے تحت حمزہ شہباز سے حلف لیا گیا،ہر فیصلہ آئین کے تحت کروں گا، عمر سرفراز چیمہ
گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کے حلف کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے حلف سے متعلق احکام جاری کرنے والے لاہور ہائیکورٹ کے جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کردیا۔
گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ ان دنوں سیاسی وکٹ پر دھواں دھار بلے بازی میں مصروف ہیں اورچاروں جانب چھکے چوکے لگارہے ہیں۔صدر مملکت، وزیراعظم اور آرمی چیف کو خط لکھنے کے بعد انہوں نے اپنی توجہ عدلیہ پر مرکوز کرلی۔
یہ بھی پڑھیے
حمزہ شہباز شریف نے 21ویں وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا
لاہور ہائیکورٹ، اسپیکر قومی اسمبلی کو حمزہ شہباز سے حلف لینے کا حکم
گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قابل احترام ہیں لیکن عدالت کا غلط استعمال کیا گیا۔ آئین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے جس کے تحت حمزہ شہباز سے حلف لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس جواد حسن نے غلط فیصلہ جاری کیا، اعتزاز احسن نے بھی میری اس بات پر اتفاق کیا ہے، یوسف رضا گیلانی کو بھی قانون کا علم نہیں ہے۔
گورنرپنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج کیخلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل بھیج رہا ہوں، آئین میں کوئی شق موجود نہیں ہے جس کے تحت حلف لیا گیا، ہر فیصلہ آئین کے تحت کروں گا۔
یاد رہے اس سے قبل گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے حمزہ شہباز کے حلف کے حوالے سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور وزیراعظم شہباز شریف کو الگ الگ خطوط لکھے تھے۔
گورنر پنجاب نے آرمی چیف کو لکھے گئے خط میں قومی و صوبائی حکومت پر عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی ۔
گورنر پنجاب نے آرمی چیف کے نام خط میں لکھا تھا کہ حمزہ شہباز کا الیکشن غیر آئینی ہے، وزیراعظم کا بیٹا ہونے کی وجہ سے حمزہ شہباز غیر آئینی طور پر مسلط ہوگیا، عمر سرفراز چیمہ نے صدر اور وزیراعظم کے نام خطوط کی کاپیاں بھی آرمی چیف کو بھجوائی تھیں۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں گورنر پنجاب نے موقف اپنایا تھا کہ عثمان بزدار کا استعفیٰ متنازع ہے، وزیراعلیٰ کا الیکشن پنجاب اسمبلی کی سو سالہ تاریخ پر سیاہ دھبہ ہے، ن لیگ نے پنجاب اسمبلی میں ڈی فیکٹوممبران کی حمایت حاصل کی۔
خط میں مزید کہا گیا تھا کہ متنازع الیکشن کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، تمام غیرآئینی عمل کا مرکزی کردار حمزہ شہباز ہے، تقریب حلف برداری کے حوالے سے چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب نے گھناؤنا کردارادا کیا۔ آپ اور آپ کے بیٹے اور خاندان پر مجرمانہ کیسز ہیں۔
ملک کی بدقسمتی ہےآپ دونوں ضمانت کے باوجود اہم عہدوں پرہیں، کوئی طاقت مجھے آپ کےبیٹے کے غیرآئینی اقدامات کو روکنےسے منع نہیں کرسکتی۔ میں تمام صلاحیت بروئے کار لاکرآئین پاکستان کی حفاظت کروں گا۔
خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ جلد صدر مملکت اور آرمی چیف سے ملاقات کرکے انہیں صوبے میں موجود سیاسی اور آئینی بحران سے آگاہ کریں گے اور بحران کے حل کے لیے دونوں شخصیات سے مشاورت کریں گے۔









