ایندھن اور بجلی پر سبسڈی کی گنجائش نہیں، عقیل کریم ڈھیڈی

چیئرمین اے کے ڈی گروپ نے مشیر خزانہ کے ٹویٹ کے جواب میں کہ انٹرویو کا مقصد کسی پر الزام تراشی کرنا نہیں تھا۔

اے کے ڈی گروپ کے چیئرمین عقیل کریم ڈھیڈی کی طرف سے ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آج میرے انٹرویو کا مقصد کسی پر الزام تراشی یا کسی کو بدنام کرنا نہیں تھا۔

یہ بات عقیل کریم ڈھیڈی نے سابق مشیر خزانہ شوکت ترین کی ٹویٹ کے جواب میں کہی۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ عقیل ڈھیڈی نے توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سبسڈی دینے کیلیے ان کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عقیل ڈھیڈی کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مکمل طور پر فنڈڈ تھا۔

عقیل ڈھیڈی نے کہا کہ یہ کہنا کہ معاشی پیکج مکمل طور پر فنڈڈ تھا، درست نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیکج میں تیل کی فی بیرل خریداری 80 سے 90 ڈالر میں ہونا تھی لیکن تیل 105.7 ڈالر فی بیرل قیمت 105.7 ارب ڈالر ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالیاتی خلا بڑھ چکا ہے، ایسے وقت میں یہ آسائش برداشت نہیں کی جاسکتی۔

چیئرمین اے کے ڈی گروپ کا کہنا تھا کہ غیر معین شدہ سبسڈی کی فراہمی کی وجہ سے ایندھن پر کُل سبسڈی 250 سے 300 ارب روپے دی جائے گی۔

بجلی پر جون 2022 تک 136 ارب روپے تک کی سبسڈی دی جاچکی ہوگی۔

عقیل ڈھیڈی نے کہا کہ کُل ملا کر قومی خزانے کو ایندھن اور بجلی کی مد میں یہ سبسڈی 350 سے 400 ارب روپے میں پڑے گی۔

پی ٹی آئی کے دور حکومت میں 247 ارب روپے تک کی ٹیکس محصولات ہوسکیں جس کا مطلب ہے کہ 100 سے 200 ارب روپے کی گنجائش باقی ہے۔

اور یہ گنجائش دیگر محصولات یا پی ایس ڈی پی میں کٹوتی کرکے مکمل کی گئی۔

پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام میں کٹوتی کرکے مستقبل کی ترقی کو فوری فائدے کیلیے قربان کردیا گیا۔

عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ حکومت یہ سبسڈیز انہیں دے گی جن کو ملنی چاہئیں۔

اس طرح حکومت کو مالیاتی خلا پُر کرنے میں آسانی ہوگی، ایک ایسے وقت میں کہ جب بلند تر شرح سود کی وجہ سے اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینا ممکن نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا بدترین نتیجہ ٹی بلز کی نیلامی میں سامنے آگیا جو کہ پچھلے کچھ مہینوں کے دوران ہوئی۔

حکومت پاکستان نے شرح سود کو بڑھا کر 14 فیصد کر دیا جو کہ دسمبر 2021 میں 10.4 فیصد تھی۔

متعلقہ تحاریر