اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی سمیع ابراہیم سے متعلق بڑا فیصلہ دے دیا

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کل کچھ لوگ صحافت نہیں بلکہ زرد صحافت کر رہے ہیں۔ جس قانون کا وہ دفاع کررہے تھے اب وہ اس کے بینیفشری ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو صحافی سمیع ابراہیم  کو 16 مئی تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نےصحافی اور اینکر پرسن سمیع ابراہیم کے خلاف ایف آئی اے کی انکوائری کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

عدلیہ کے متوازی اختیارات کا استعمال، ہائی کورٹ کا الیکشن کمیشن سے جواب طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ ، عدالتی کارروائی کی لائیو سٹریمنگ کی جائے گی

درخواست گزار سمیع ابراہیم کے وکیل کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھاکہ  سمیع ابراہیم کے خلاف ایف آئی اے کا  اندراج اور دیگر اقدامات  آئین کے اصولوں اور آئین میں درج بنیادی حقوق کی نفی ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے سیکشن 20 کے تحت جاری کیا گیا نوٹس اس عدالت کے اس حوالے سے جاری فیصلے کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ مذکورہ دفعات کو پہلے ہی اس عدالت نے ختم کر دیا تھا۔ سمیع ابراہیم کے وکیل کا کہنا تھاکہ ان کے موکل صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج کل کچھ لوگ صحافت نہیں بلکہ زرد صحافت کر رہے ہیں۔ جس قانون کا وہ دفاع کررہے تھے اب وہ اس کے بینفشری ہیں۔

وکیل کا کہنا تھاکہ ان کے موکل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے کوشش کی جارہی ہے۔ ایف آئی اے حکام کو تعزیرات پاکستان کے سیکشن 505 کے تحت کسی بھی معاملے کی تحقیقات کرنے کا اختیار نہیں۔ اس لئے ایف آئی اے کی کارروائی اور اس حوالے سے انکوائری منسوخ کی جائے۔

سمیع ابراہیم کے وکیل کا کہنا تھاکہ ایف آئی اے نے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے جو ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ایف آئی اے حکام کے اقدامات  آرٹیکل 10 ، 4 اور 14 کی بھی خلاف ورزی ہے جو ہر شہری کو یقین دلاتا ہے کہ  اس سے قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ  آئین کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف آئی آر میں درج دفعات 296/2022 کو ختم کیا جائے اور رخواست کے حتمی فیصلے تک ایف آئی اے کو ہراساں کرنے سے باز رکھا جائے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ  14 مئی کو سمیع ابراہیم پاکستان پہنچ رہے ہیں،عدالت ایف آئی اے کو حکم دے کہ سمیع ابراہیم کو گرفتار نہ کیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو سمیع ابراہیم کی 16 مئی تک گرفتاری سے روک دیا اور ڈائریکٹر سائبر کرائمز ونگ  ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے کا حکم دے دیا۔

جبکہ فریقین کو بھی نوٹسز جاری کرتے ہوئے  سماعت 16 مئی تک کے لئے ملتوی کردی۔

متعلقہ تحاریر