دو سرکاری نوکریاں، فیصل واوڈا نے ای سی پی رکن کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا
پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا نے ای سی پی سندھ کے رکن نثار احمد درانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں ریفرنس دائر کیا جو دو سرکاری نوکریوں پر فائز ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سندھ کے رکن نثار احمد درانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں ریفرنس دائر کیا ہے، ان پر ایک وقت میں دو سرکاری نوکریاں رکھنے کا الزام ہے۔
سابق سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرائی گئی اپنے درخواست میں ای سی پی سندھ کے رکن نثار احمد درانی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سندھ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ ، مشیر جیل خانہ جات کی ساری ٹیم فارغ
سندھ میں پانی کی قلت کے خلاف کاشتکاروں کا ہائی وے مظاہرہ، ٹریفک معطل
نثار احمد درانی کو 24 جنوری 2020 کو صوبہ سندھ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کا ممبر مقرر کیا گیا تھا، جبکہ وہ سندھ لاء کالج کے پرنسپل کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں ، جوکہ آئین کے آرٹیکل 216 کی خلاف ورزی کے ذمرے میں آتا ہے۔
کالج کی ویب سائٹ کی ویب سائٹ پر نثار احمد درانی کی تصاویر بھی دیکھی جاسکتی ہے جبکہ ویب سائٹ پر ان کا ذکر موجودہ پرنسپل کے طور پر کیا گیا ہے۔

فیصل واوڈا نے اپنے ریفرنس میں کہا ہے کہ نثار احمد درانی کا معاملہ مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف اور سعدیہ عباسی، پیپلز پارٹی کے رحمان ملک اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ جیسا ہے جن کے کیسز کا نتیجہ بھی بالکل برعکس نکلا تھا۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ نثار احمد درانی نے مبینہ طور پر ان کے خلاف جانبدارانہ رویہ رکھا اور ای سی پی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف انہیں نااہل قرار دیا۔
واوڈا نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ درانی کی مدت ملازمت میں 31 دسمبر 2021 سے 31 دسمبر 2023 تک مزید تین سال کے لیے توسیع کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واوڈا نے ایس جے سی سے استدعا کی کہ وہ نثار احمد درانی کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت بدانتظامی، ضابطہ اخلاق اور آئین کے آرٹیکل 5 اور 216 کی خلاف ورزی پر کارروائی شروع کرے۔









