روپے کی گرتی قدر، اوپن مارکیٹ میں ڈالر 210 روپے پر بھی نہیں مل رہا

انٹربینک میں آج ڈالر کی قیمت میں 1.61 روپے کا اضافہ، 11 اپریل سے اب تک 17 روپے مہنگا ہوچکا، ذرائع کے مطابق اوپن مارکیٹ سے ڈالر غائب۔

انٹر بینک میں ڈالر 200 روپے سے بھی تجاوز کر گیا، ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستقل تنزلی کا شکار ہے۔

انٹر بینک میں آج ڈالر کے نرخ میں 1.61 روپے اضافہ ہوا، 11 اپریل سے اب تک ڈالر 17 روپے 7 پیسے مہنگا ہو چکا ہے۔

صرف رواں مالی سال میں ڈالر کی قیمت 42 روپے بڑھی ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اوپن مارکیٹ میں ڈالر 200 روپے پر پہنچا ہے۔

یورو کی قیمت میں ایک روپیہ اور پاؤنڈ کی قیمت میں بھی ڈیڑھ روپے کا اضافہ ہوا۔

یورو کی قیمت فروخت 208 جبکہ برطانوی پاؤنڈ کی قیمت 246 روپے 50 پیسے ہوچکی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیلرز اوپن مارکیٹ میں ڈالر فروخت ہی نہیں کر رہے اور چند سال قبل کی طرح اس وقت بھی مارکیٹ سے ڈالر غائب ہو چکا ہے۔

دو دہائیوں میں ڈالر کی قدر و منزلت

12 اکتوبر 1999 میں جب جنرل پرویز مشرف نے اقدار سنبھالا تو ڈالر 51 روپے 75 پیسے پر ٹریڈ کررہا تھا۔

15 نومبر 2007 کو جب جنرل مشرف کی حکومت ختم ہوئی تو روپیہ 15 فیصد یعنی 9 روپے 43 پیسے کمی کے بعد 61 روپے 18 پیسے پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

پیپلز پارٹی 24 مارچ 2008 کو اقتدار میں آئی تو ڈالر 62 روپے 22 پیسے پر تھا جبکہ 24 مارچ 2013 میں ڈالر کی قیمت 98 روپے 22 پیسے تک پہنچ چکی تھی۔

روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں بھی نہیں رکا، ن لیگ نے 5 جون 2013 کو ملک کی باگ دوڑ سنبھالی تو اُس وقت ڈالر کی قیمت 98 روپے 51 پیسے تھی۔

یکم جون 2018  تک ڈالر کی قیمت 115 روپے 61 پیسے تک پہنچ چکی تھی۔

پی ٹی آئی 18 اگست 2018 کو اقتدار میں آئی تو اس وقت ڈالر 124 روپے 4 پیسے پر ٹریڈ کررہا تھا۔

عمران خان کے دور میں روپیہ 33 فیصد یعنی 60 روپے 28 پیسے مہنگا ہوا، پی ٹی آئی حکومت کے اختتام پر 10 اپریل 2022 کو ڈالرکی قیمت 184 روپے 68 پیسے تھی۔

شہبازشریف کی اتحادی حکومت نے 11 اپریل 2022 کو ملک کی باگ دوڑ سنبھالی، اُس وقت ڈالر کی قیمت 182 روپے 92 پیسے تھی۔

صرف 38 روز میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 200 روپے سے اوپر ٹریڈ کررہا ہے۔

متعلقہ تحاریر