نمرہ کاظمی کو اب تک بازیاب کیوں نہیں کروایا گیا؟ سندھ ہائیکورٹ
کراچی سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کی بازیابی کا معاملہ، محکمہ داخلہ پنجاب سے اجازت ملنے کے بعد چھاپہ ماریں گے، پولیس۔

کراچی سے لاپتہ نمرہ کاظمی کی بازیابی کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ میں دو رکنی بینچ نے نمرہ کاظمی کیس کی سماعت کی، حکم کے باوجود نمرہ کو پیش نہ کرنے پر عدالت نے سندھ پولیس ہر غصے کا اظہار کیا۔
عدالت نے کہا کہ یہ کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟ بچیاں کیوں اغوا ہو رہی ہیں؟ پولیس کیوں کچھ نہیں کر رہی۔
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر بچیاں جا رہی ہیں اور پنجاب میں گم ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے حکم دیا تھا بچی کو ہر صورت میں پیش کیا جائے۔ اب تک نمرہ کاظمی کو بازیاب کروا کر کیوں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا؟
ڈی ایس پی سعود آباد نے کہا کہ پولیس بچی کی والدہ کے ساتھ پنجاب میں موجود ہے، نمرہ کاظمی کی ڈیرا غازی خان کے علاقہ تونسہ شریف میں موجودگی کی اطلاع ہے۔
پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ داخلہ پنجاب سے اجازت کے بعد بچی کی بازیابی کے لیے چھاپا مارا جائے گا۔
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ محکمہ داخلہ پنجاب کو جا کر بتائیں کہ عدالت نے حکم دیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ پنجاب کے محکمہ داخلہ سے آج چھاپا مارنے کی اجازت ملنے کا امکان ہے۔
پولیس عدالت نے نمرہ کاظمی کو 25 مئی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا نمرہ کاظمی کو آئندہ سماعت پر ہر صورت میں پیش کیا جائے۔ عدالت









