ایس ای سی پی نے مالی سال 2020-21 کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی
چیئرمین ایس ای سی پی کا کہنا ہے نئے قوانین کے تحت مالی سال 2020-2021 میں مالیاتی فراڈ کی سرگرمیوں میں ملوث 22 کمپنیوں کو بند کئے جانے کی کارروائی کی گئی۔
اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے مالی سال 2020-21کی سالانہ رپورٹ جاری کردی ہے ۔ رپورٹ میں جائزہ سال کی مدت کے دوران ملک میں کاروباری آسانیوں کی فراہمی، سرمائے کی دستیابی ، کپیٹل مارکیٹ کے فروغ اور سرمایہ کی تشکیل اور ملک میں چھوٹے کاروبار اور سٹارٹ اپ کے فروغ کے لئے معاون ماحول کی فراہمی کے لئے کی گئی اصلاحات کا جامع احاطہ کیا گیا ہے۔
ایس ای سی پی کی سالانہ رپورٹ میں ادارے کے چیئرمین عامر خان نے کہا ہے کہ ایک سخت گیر ریگولیٹری نظام غیرقانونی کاروباری سرگرمیوں کی افزائش کا امکان کو بڑھاتا ہے ۔ لہذا ایس ای سی پی میں کی جانے والی اصلاحات کا قوانین پر عملدرآمد کو سہل اور آسان بنانا اور سرمایہ کاروں کو کاروباری آسانیاں فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
شبر زیدی کا معیشت کو بچانے کیلیے فوری عام انتخابات کا مطالبہ
آٹے کے دام بے لگام ، کراچی کے عوام 20 کلو کا تھیلا 1640 روپے میں خریدنے پر مجبور
کارپوریٹ سیکٹر اور کپیٹل مارکیٹ میں گورننس کو بہتر بنانے اور شفافیت کو فروغ دینے کے پیش نظر ایس ای سی پی میں سینٹرلائزڈ سپرویژن ڈویژن قائم کیا گیا ہے جبکہ کمیشن کی قانونی ٹیم کو بھی مستحکم کر دیا گیا ہے۔ مستحکم انفورسمنٹ کے نتیجے میں مالی سال 2020-2021 میں مالیاتی فراڈ کی سرگرمیوں میں ملوث 22 کمپنیوں کو بند کئے جانے کی کارروائی کی گئی۔ قوانین کی خلاف ورزیوں پر 5 ارب روپے تک کے جرمانے عائد کیے گئے ۔
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے اس کے تحت ریگولیٹ کئے جانے والے شعبوں میں اینٹی منی لانڈرنگ کے لئے کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں،ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ نے اپنے جائزہ میں ایس ای سی پی کے دائرہ میں تما م سفارشات پر مکمل کمپلائنٹ قرار دیا۔
چھوٹے کاروبار اور سٹارٹ اپ کو سرمایہ کی فراہمی کو آسان بنانے کے لئے متعلقہ ریگولیشنز میں ترامیم کر کے کمپنیوں کو سرمایہ کاروں سے قابل انتقال اور دیگر اثاثہ جات کی صورت میں سرمایہ وصول کونے کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو دستاویزی شکل دینے اور ریگولائزڈ منصوبوں کے اجراء کو فروغ دینے کے پیش نظر رئیل اسٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے ریگولیٹری فریم ورک میں جامع اصلاحات کی گئیں ہیں۔ انفرا سٹکچر منصوبوں کی لئے سرمایہ کی فراہمی کے کئے پرائیویٹ، پبلک پارٹنرشپ کا ماڈل متعارف کروایا گیا ہے ۔ اس مالی سال کے دوران تین ہاوسنگ فنانس کمپنیاِں، ایک مائیکرو فنانس کمپنی، دو انوسٹمنٹ فنانس سروسز کا اجراء کیا گیا ہے۔
مالی سال 2021 کے دوران ملک کی پہلے کولیکٹرل مینجمنٹ کمپنی کا بھی اجراء کیا گیا جو کہ کسانوں کو کئی زرعی اجناس کو جدید طریقوں سے اسٹور کرنے کی سہلوت فراہم کی گئی ہے اور کسانوں کو زرعی اجناس کی اسٹوریج کی الیکٹرانک رسید جاری کی جاتی ہے جس کے عوض بنکوں سے قرض بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
علاوہ ازیں اسٹاک مارکیٹ کو فروغ دینے اور سرمایہ کاروں میں اضافہ کرنے کے لئے بھی کئی ایک اقدامات کئے گئےہیں۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں مالی سال 2020-21 کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 10 کامیاب آئی پی اوز کئے گئے اور چار ایکسچینج ٹریڈیڈ فنڈز کا اجراء کیا گیا ۔ سٹاک مارکیٹ میںسرمایہ کاروں کے لئے اکاوئنٹ کھولنے کے عمل کو بھی مکمل طور پر ڈیجیٹلائزڈ کر دیا گیا ہے۔
ایس ای سی پی نے کمپنیوں کی رجسٹریشن کے عمل کو بھی مکمل طور پر ڈریجیٹلائز کر دیا ہےجس کے نتیجے میں اس سال کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 51 فیصد اضافہ ہوا ۔ مالی سال 2020-21 میں ایس ای سی پی نے 25,533 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں ۔









