حکومتی وزرا اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات میں تیزی، تصادم کا خطرہ

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ غنڈہ گردی اور جتھے برداشت نہیں کیے جائیں گے، شفقت محمود بولے گرفتاریاں کی گئیں تو ردعمل کیلیے تیار رہیے گا۔

پی ٹی آئی رہنما شفقت محمود نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثنا اللہ اور ان کے ساتھی گرفتاریوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پورے پنجاب میں آزادی مارچ کی تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا، تشدد یا قانون کے ناجائز استعمال کا پورا حساب رکھیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عمران خان کے لانگ مارچ سے خوفزدہ ہوگئی ہے۔

حماد اظہر نے انکشاف کیا کہ حکومت افسران پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ آزادی مارچ کو زبردستی روکا جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ چند افسران نے زیادہ دباؤ کی صورت میں استعفیٰ دینے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اسد عمر نے بھی بتایا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں آرٹیکل 199 کے تحت ایک پٹیشن داخل کر دی ہے۔

پٹیشن میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کو اپنا آئینی حق استعمال کر کے احتجاج کرنے سے روکنے سے حکومت کو باز رکھا جائے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اس اہم موقع پر بیان دیا کہ عمران نیازی جھوٹا ہے، اس کے جتھے اور غنڈہ گردی برداشت نہیں کریں گے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کی زبان میں انتشار اور فساد ہے، وہ پُرامن رہ ہی نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کہ 2014 میں 126 دن غنڈہ گردی ہوئی، پارلیمنٹ اور سرکاری عمارتوں پر حملے ہوئے، اس وقت بھی عمران خان نے جھوٹ بولا تھا کہ پرامن رہیں گے، اب ان کی بات پر کسی کو بھروسہ نہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر کوئی شرافت کے دائرے سے نکلے گا تو قانون اسے شرافت میں واپس لائے گا۔

متعلقہ تحاریر