پیٹرول مہنگا کرنے کے مثبت اثرات نظر آنے لگے، روپیہ اور اسٹاک مارکیٹ تگڑی ہونے لگی

ماہرین معاشیات کے مطابق حکومت پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کے ریٹ بڑھا کر آئی ایم ایف کو راضی کرنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے تاہم یہ فیصلہ حکومت کو پہلے لینا چاہیے تھا۔

آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے حکومتی فیصلے کے مثبت اثرات نظر آنے لگے، روپیہ اور اسٹاک مارکیٹ تگڑی ہونے لگی۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کے دام 30 روپے فی لٹر بڑھا کر معیشت کی سمت متعین کی اور معیشت کی بحالی کے لیے مشکل اور کٹھن فیصلوں کا آغاز کیا تو معیشت کی بھی جان میں جان آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یوٹیلیٹی اسٹورز پر 20 کلو آٹے کا تھیلا 180 روپے بڑھ کر 980 کا ہو گیا

پٹرول کے بعد کراچی والوں کو بجلی کاجھٹکا، فی یونٹ4.83روپے مہنگی

گزشتہ 15 دنوں کے بعد ڈالر کا مقابلے میں روپیہ تگڑا ہوا۔ 27 مئی کو ڈالر کے مقابلے روپیہ مستحکم ہوا اور ڈالر انٹر بینک 2 روپے 25 پیسے گرنے کے بعد 199 روپے 75 پیسے پر آگیا۔

اس سے پہلے 12 مئی سے 26 مئی تک ڈالر 15 روپے 38 پیسے تک مہنگا ہو چکا تھا۔

ماہرین معاشیات کے مطابق حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی بے ہنگم، بے ربط اور بے لگام سبسڈی کو کنٹرول کیا ہے ۔ معشیت کی بہتری کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں اور اپنی سیاست چمکانے کی بجائے ریاست کا سوچا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں نے بھی حکومتی کٹھن فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اسٹاک مارکیٹ ٹریڈنگ کے دوران  ایک موقع پر 1013 پوائنٹ مثبت بھی رہی۔

گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج 42541 انڈیکس پر بند ہوا تھا ۔ 27 مئی کو اس انڈیکس میں 1013 پوائنٹس کی بہتری بھی ہوئی اور یہ 43554 تک بھی دیکھا گیا، پھر اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں نے اپنی پوزیشن میں محتاط رویہ اپنایا اور ٹریڈنگ کے اختتام پر  مارکیٹ 281 پوائنٹس  اضافے کے ساتھ 42882   پر بند ہوئی۔

ماہرین معاشیات کے مطابق حکومت پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کے ریٹ بڑھا کر آئی ایم ایف کو راضی کرنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے اور اس سے اب واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی بحالی میں کامیاب ہو جائے گا اور جون کے پہلے ہفتے میں مزید بات چیت کی کامیابی ایک ارب ڈالر کی قسط جاری ہونے کی راہ ہموار کرے گی۔

متعلقہ تحاریر