ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم دینے کے دوران خطرناک تجربات کا مشاہدہ کرنا پڑا، پرنسپل ایاز بیگ
سابق کیریئر کنسلٹنٹ کا کہنا ہے جو پرابلم آج ہم فیس کررہے ہیں اگلے پانچ سال میں یہ پرابلم اپنی جدید شکل میں ہمارے سامنے ہوں گی۔
سابق کیریئر کنسلٹنٹ اور اے لیول کالج کے پرنسپل ایاز بیگ کا کہنا ہے ہم سمجھتے تھے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم دینا آسان ہے مگر نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم مکمل طور پر غلط تھے ، ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم دینے کے دوران خطرناک قسم کے تجربات سے گزرنا پڑا۔
نیوز 360 کے نامہ نگار الیان الکریم سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز بیگ کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان لیول پر بات کی جائے تو ٹیکنالوجی کے استعمال میں تین چار قسم کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ، انٹرنیٹ کے ایشوز ، الیکٹریسٹی کے ایشوز اور بھی دیگر ایشوز کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے
ترکی میں اسلامی روایات کی ادائیگی میں کبھی دشواری پیش نہیں آئی، قراۃ العین
ترکی پاکستان بھائی بھائی سے ہیش ٹیگ گیٹ آؤٹ پاکستانیز میں تبدیل ہونے والے عوامل
اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے ایاز بیگ کا کہنا تھا میں خود ایک دن اپنے بیٹے کو دیکھا کہ وہ ای سی روم میں کمبل اوڑھ کر بیٹھا تھا اور موبائل پر کلاس لے رہا تھا میں پوچھا کہ بیٹا کیا کررہے تو اس نے جواب دیا کہ ابو کلاس لے رہا ہوں ۔ تب میں نے اس سے کہا کہ جب آپ کلاس لینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوکر نہیں بیٹھو گے آپ کلاس نہیں لےسکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ہیومن انٹرایکشن کا کسی بھی طرح سے نعیم البدل نہیں ہوسکتی ہے ، چاہے سائنس کتنی بھی ترقی کرجائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایجوکیشن کی 3 ہزار سے زائد شاخیں یونیورسٹیز میں دستیاب ہیں ، جو پرابلم آج سے پانچ سال پہلے ایگزسٹ کرتی تھی اب ان کی ایڈوانس شکلیں آچکی ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ اگلے پانچ سال میں جو پرابلم آئیں گی وہ آج کی پرابلم سے بالکل مختلف ہوں گیں۔
کیریئر کنسلٹنٹ ایاز بیگ نے نیوز 360 کے ساتھ مزید کیا تجربات شیئر کیے دیکھتے ہیں ان کے اس انٹرویو میں۔









