پاکستانی نژاد امریکیوں کی اسرائیلی صدر سے ملاقات معمولی بات نہیں!
اسرائیلی صدراسحٰق ہرزوگ سے ملاقات امریکی صدر سے ملاقات سے زیادہ مشکل کام ہے،ملاقات کی تفصیلات ضرور سامنے آنی چاہئیں، ناقدین

پاکستان ٹیلی وژن کے میزبان اور سینئر صحافی احمد قریشی سمیت2 پاکستانی نژاد امریکی باشندوں پر مشتمل وفد کے دورہ اسرائیل اور اسرائیلی صدر اسحٰق ہرزوگ سے ملاقات نے سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے۔
اسرائیلی صدر اسحٰق ہرزوگ نے گزشتہ دنوں 2پاکستانی نژاد امریکی سمیت 3 افراد پر مشتمل وفد سے ملاقات کو خوش آئند قرار دیا تھا جس کے بعد دفترخارجہ نے کسی پاکستانی وفد کے دورہ اسرائیل کی تردید کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
صہیونی فوج کی فائرنگ سے خاتون فلسطینی صحافی ہلاک
اسرائیلی پولیس کا خاتون فلسطینی صحافی کے جنازے کے شرکاپر حملہ
اسرائیلی صدر اسحٰق ہرزوگ نے گزشتہ دنوں عالمی اقتصادی فورم میں بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ ہفتے ان سے دو وفود نے ملاقات کی جن میں امریکا میں مقیم دو پاکستانی بھی شامل تھے۔ اسرائیلی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد سے ان کی ملاقات بے حد خوش آئند رہی۔
اسرائیلی صدر کی وڈیو گزشتہ روز وائرل ہوئی تھی جس کے بعد پاکستانی عوام میں بے چینی پھیل گئی تھی ۔گزشتہ روز سابق وزیراعظم نے چارسدہ میں ورکرز کنونش سے خطاب کے دوران حکومت پر اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
عمران خان نے کہا تھا کہ آج ایک تصویر آئی ہے کہ پہلی دفعہ کوئی پاکستانی وفد اسرائیل گیا ہے، جس میں سرکاری ٹی وی کا ایک تنخواہ دار بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب امریکی غلام ملک پر مسلط ہوں گے تو یہ ہر وہ کام کریں جس کا حکم امریکا سے آئے گا، یہ اب اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہے ہیں۔
سابق وزیراعظم کے بیان کے بعد دفترخارجہ نے کسی بھی پاکستانی وفد کے دورہ اسرائیل کی سختی سے تردید کردی تھی۔ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ایک بیان میں ترجمان دفترخارجہ نےکہا ہےکہ پاکستان کےکسی وفدکے دورہ اسرائیل کا تصور واضح مسترد کرتے ہیں، زیربحث دورےکا اہتمام غیر ملکی این جی او نے کیا تھا جو پاکستان میں مقیم نہیں۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ مسئلہ فلسطین پرپاکستان کامؤقف واضح اور غیر مبہم ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کی مستقل حمایت کرتا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہےکہ فلسطین پرہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، اس پرمکمل اتفاق رائے ہے۔ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے بھی اس حوالے سے تفصیلی بیان جاری کیا تھا۔
Ministry of Foreign Affairs
(Office of the Spokesperson)
*****
Press ReleaseNo. 258/2022
Responding to media queries, the Spokesperson categorically rejected the notion of any delegation from Pakistan visiting Israel.
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) May 29, 2022
اسرائیل کا دورہ کرنے والے وفد کی سربراہی امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد لابسٹ نژاد انیلا علی نے کی تھی ۔ انیلا علی کےتحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیرعلی زیدی اور ان کی فیملی سے بہت قریبی تعلقات ہیں اور ان سے کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں ۔
@ImranKhanPTI Sb. There was no #Pakistan delegation visiting #Israel. There was a Pakistani-American 🇺🇸 🇵🇰 interfaith group that made the visit. @ammwecofficial. @ImranKhanPTI kindly stop using lies to solve your political problems.
— Anila Ali (@anilaali) May 29, 2022
انیلا علی نے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خا ن کے الزام کے بعد اپنے وضاحتی ٹوئٹ میں بھی علی زیدی سے قریبی تعلقا ت کا حوالہ دیا۔انیلا علی نے لکھا کہ عمران خان صاحب ! کسی پاکستانی وفد نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا، یہ دورہ پاکستانی امریکن بین المذاہب گروپ نے کیا تھا،انہوں نے سابق وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ عمران خان صاحب اپنے سیاسی مسائل کے حل کیلیے جھوٹ بولنا چھوڑ دیں۔
@ARYNEWSOFFICIAL Let’s clarify something. The delegation had nothing to do with Pakistani government but everything to do with peace. We are Pakistani by birth but US nationals. @ImranKhanPTI Please verify with our mutual friend @AliHZaidiPTI. He’s a great friend of ours. pic.twitter.com/gNFQbZrjGn
— Anila Ali (@anilaali) May 29, 2022
ایک اور ٹوئٹ میں انیلا علی نے نجی ٹی وی اے آر وائی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ایک چیز کی وضاحت ضروری ہے کہ اس وفد کا پاکستانی حکومت سے کچھ لینا دینا نہیں تھا بلکہ امن سے تھا۔ہم پاکستان میں پیدا ضرور ہوئے ہیں لیکن امریکی شہری ہیں۔انہوں نے سابق وزیراعظم کو مشورہ کہ ہمارے مشترکہ دوست علی زیدی سے تصدیق کرلیں ، وہ ہمارےبہت اچھے دوست ہیں۔
میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستانی امریکیوں کے ایک وفد نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔یہ دورہ اسرائیل کے حامی سول گروپ شراکا کی طرف سے اسپانسر کیا گیا تھا جو 2020ء میں ابراہیم معاہدے پر دستخط اور متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔یہ گروپ اسرائیل کو خلیجی ممالک سے ملانے کے لیے کام کرتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کا دورہ اسرائیل اور اسرائیلی صدر سے ملاقات کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اسرائیلی صدر سے ملاقات کرنا امریکی صدر سے ملاقات کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔پاکستانی نژاد امریکیوں کے دورہ اسرائیل اور اسرائیلی صدر سے ملاقات کی تفصیلات ضرور سامنے آنی چاہئیں۔









