استعفوں کی تصدیق کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کی دعوت کو پی ٹی آئی نے ٹھکرا دیا

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں واپس جانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کرلیا ، تاہم پی ٹی آئی قیادت نے اپنے ارکان کو استعفوں کے تصدیق کے عمل میں شامل ہونے سے روک دیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے گزشتہ ماہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے اجتماعی استعفوں کی تصدیق کے لیے رضاکارانہ طور پیش ہونے کو کہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ایک ماہ بعد پنجاب کو گورنر اور کابینہ نصیب ہو گئی

حمزہ شہباز کا انتخاب، کیا 63 اے کی تشریح پر پورا اترتا ہے؟

اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کو 6 جون کو استعفوں کی تصدیق کے لیے الگ الگ طلب کیا تھا۔

ترجمان قومی اسمبلی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ اسپیکر اسمبلی نے پی ٹی آئی کے ارکان کو 6 جون کو طلب کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی نے 11 اپریل کو اجتماعی پر اسمبلی فلور سے استعفے دیئے تھے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے باہمی مشاورت سے اپنے ارکان کو اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش ہونے سے روک دیا ، ارکان کو بتایا گیا ہم استعفیٰ دے چکے ہیں مزید کسی اقدام کی ضرورت نہیں ہے۔

نیوز 360 کے ذرائع کا کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی صورت اسمبلی میں واپس نہیں جانا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں واپس جانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے پی ٹی آئی قیادت نے پارٹی ارکان کے سامنے موقف اپنایا ہے کہ ہم استعفے دے چکے ہیں لہٰذا مزید کسی اقدام کی ضرورت نہیں۔

متعلقہ تحاریر