کینیڈین حکومت کی چھوٹے بڑے ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی

کینیڈا بھر میں فائرنگ کے واقعات میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں

کینیڈا کی حکومت نے ملک بھر میں  چھوٹے اسلحہ کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگانے کا  اعلان کردیا  ہے ۔ کینیڈین وزیر اعظم  جسٹس ٹروڈو کا کہنا ہے کہ اسلحہ کی خرید و فروخت کے حوالے سے حکومت نئی قانون سازی  کرنے جارہی ہے جس کے تحت اسلحہ کی ملکیت کے قوانین کو مزید سخت کیا جائے گا ۔

جسٹن ٹرودو نے بتایا کہ قانون سازی کے بعد ملک بھر میں چھوٹے آتشیں اسلحہ کی خرید ، فروخت  اور منتقل یا درآمد مکمل طور پر بند ہو جائے گی  تاہم جن افراد کے پاس اس وقت اسلحہ موجود ہے ان سے واپس نہیں لیا جائے گا اور وہ اسے رکھ سکیں گے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے  ملک میں فائرنگ کے واقعات میں یقیناً کمی واقع ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

سدھو موسے والا کے قاتل بےنقاب ہوگئے

عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق اسلحے پر پابندی کے بل میں شوٹنگ مقابلوں، سیکیورٹی گارڈز  اور اولمپک  ایتھلیٹس کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ کینیڈین وزیراعظم  نے  ہینڈ گن  کی فروخت پر پابندی  کو شہروں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ مختلف اوقات  میں کینیڈا بھر میں فائرنگ کے واقعات میں  سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں ۔20 اپریل 20202 میں کینیڈا میں فائرنگ کا بد ترین واقعہ پیش آیا جس میں 16 افراد  ہلاک ہوئے ۔  پولیس نے 12 گھنٹے کی مسلسل کوششوں کے بعد 51 سالہ حملہ آور گیبریل وورٹ مین کو ہلاک   کیا جبکہ   16 اپریل 2019 میں  کینیڈا کے  پینٹیکن میں فائرنگ کے تین مختلف واقعات میں 4 افراد ہلاک ہوگئے ۔ پولیس نے  فا ئرنگ کرکے  قتل کرنے والے 60 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا ۔

دوسری جانب  امریکا میں بھی مختلف اوقات میں  فائرنگ کے واقعت پیش آتے رہے ہیں ۔ 12 جون 2016 میں فلوریڈا میں افغان نژاد  امریکی شہری نے ایک ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب میں فائرنگ کرکے 49 افراد کو موت  کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔5 نومبر 2017 میں ٹیکساس کے چرچ میں  عبادت میں مصروف شہریوں کو ایک شخص نے   فائرنگ کرکے 25 افراد کو ہلاک کردیا تھا ۔

امریکی ریاست ٹیکساس میں شہر ہیوسٹن کے نزدیک سانتا فے ہائی سکول میں ایک طالبعلم کی فائرنگ سے پاکستانی طالبہ سبیکا عزیز شیخ سمیت دس افراد ہلاک جبکہ مزید دس زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد طلبہ کی تھی۔

متعلقہ تحاریر