لاہور ہائیکورٹ میں حمزہ شہباز کے حلف کے خلاف کیس کی سماعت
گورنر کے مطابق الیکشن گیلری میں ہوا اور غیر قانونی طریقے سے ہوا

لاہورہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبازشریف کے حلف کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے حمزہ شہبازکے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ 7 جون کو ہونے والی آئندہ سماعت پر اس نقطے پر دلائل دیں کہ کیا گورنرصدر پاکستان کو رپورٹ بھجوا سکتا ہے یا نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی پر مشتمل پانچ رکنی بنچ نے پی ٹی آئی کی اپیلوں پر سماعت کی ۔دوران سماعت حمزہ شہباز کے وکیل نے دلائل دئیے تو بنچ نے سوال کیا کہ گورنر کی نظر میں وزیر اعلی کا الیکشن غیر آئینی ہے ۔گورنر کے مطابق الیکشن گیلری میں ہوا اور غیر قانونی طریقے سے ہوا ۔توکیا پھر بھی گورنر آنکھیں بند کر کے حلف لے گا ۔حمزہ شہباز کے وکیل نے جواب دیا کہ گورنر الیکشن کی قانونیت یا لاقانونیت پر سوال نہیں اٹھا سکتا ۔آئین کے مطابق گورنر الیکشن سے متعلق زیادہ سوچ بچار نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیے
لانگ مارچ: سپریم کورٹ کا عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے پر کارروائی کا عندیہ
دوران سماعت جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے استفسار کیا کہ اگر گورنرکو غلط سمری بھیج دی جائے جس میں کم ووٹوں سے حلف لینے کی درخواست کی گئی ہو تب گورنر کیا کرے گا ۔؟حمزہ شہباز کے وکیل موقف اختیار کیا کہ چیف منسٹر کے لیے پہلی ووٹنگ میں 186 ووٹ لینے والا چیف منسٹر بنے گا ۔اگر کوئی بھی 186 ووٹ نہیں لیتا تو دوسری ووٹنگ میں زیادہ ووٹ لینے والا چیف منسٹر ہوگا ۔
عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے حمزہ شہباز کے وکیل کو 7 جون کو مزید دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کردی اور قرار دیا کہ گورنرصدر پاکستان کو رپورٹ بھیجواسکتا ہے اس پوائنٹ پر بنچ کو دلائل دئیے جائیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کے حلف کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کیلئے منظور کیں تھیں ۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔پرویز الٰہی کی جانب درخواست میں حمزہ شہباز اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے جب کہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حمزہ شہباز نے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کیلئے مطلوبہ ووٹ نہیں لیے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حمزہ شہباز کے پاس مطلوبہ نمبرز نہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ ڈپٹی اسپیکر نےحمزہ شہباز کو بلاجواز وزیراعلیٰ کے انتخاب میں کامیاب قراردیا اس لیے درخواست کے حتمی فیصلے تک حمزہ شہباز کو بطور وزیر اعلیٰ کام سے روکا جائے اور ان کے حلف کو کالعدم قرار دے کر وزیراعلیٰ کے نئے الیکشن کے لیے ہدایات جاری کی جائیں جبکہ حمزہ شہباز نے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے خلاف درخواستوں کا جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروایا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ وزیراعلیٰ کے الیکشن کے خلاف درخواستوں کو جرمانے کے ساتھ خارج کیا جائے ۔
واضح رہے کہ 30 اپریل 2022 کو پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی حلف برداری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا ۔نوٹیفکیشن کے مطابق حمزہ شہباز شریف نے آج بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب حلف اٹھالیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے گورنر ہاؤس لاہور میں حمزہ شہباز سے حلف لیا۔









