متنازعہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے استعفیٰ دے دیا
موجودہ حکومت نے مئی 2022 کو نیب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا بل کثرت رائےسے منظور کیا

چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ رواں سال کے اوائل میں جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کی میعاد آج ختم ہو رہی ہے جس کے بعد چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت اس سال جنوری میں ختم ہو گئی تھی تاہم صدارتی آرڈیننس کی وجہ سے وہ مزید چار ماہ اس عہدے پر فائز رہے ہیں۔
چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا جس کےبعد ڈپٹی چیئرمین نیب مقام چیئرمین کا عہدہ سنبھالے گے ۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں اکتوبر سنہ 2017 میں چیئرمین نیب مقرر کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی حکومت کوہمارےدورہ اسرائیل کا علم تھا، انیلہ علی
واضح رہے کہ سابق حکمران جماعت تحریک انصاف نے نیب آرڈیننس میں کچھ ترامیم کی تھیں تاہم اپوزیشن نے اس قانون سازی پر اتفاق نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے اس وقت کی حکومت نے صدارتی آرڈیننس جاری کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو اپنا کام جاری رکھنے احکامات جاری کیے تھے تاہم اب موجودہ حکمراں اتحاد 26 مئی 2022 کو قومی اسمبلی میں قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا بل کثرت رائےسے منظور کیا گیا تھا جس کو پی ٹی آئی نے عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
نئے اتحادی حکومت کی جانب سے پاس کیے گئے بل کے مطابق چیئرمین نیب کی 3 سالہ مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا جبکہ نئے چیئرمین کی تقرری کیلئے مشاورت چیئرمین کی مدت ختم ہونے سے 2 ماہ پہلے شروع کی جائے گی اور یہ عمل 40 روز میں مکمل کرنا ہوگا۔بل کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائےگا۔ پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی ۔









