حکومت نے بم نہیں ایٹم بم گرادیا، ایک ہفتے میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 60 روپے اضافہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غربت مٹانے کی دعوے دار حکومت نے تقریباً ایک ہفتہ قبل 30 روپے فی لیٹر پیٹرول پر بڑھا کر بم گرایا اب 30 روپے بڑھا کر ایٹم بم گرادیا ہے۔

وفاقی حکومت نے ایک ہفتے کے اندر اندر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 30 اضافہ کردیا ہے، جس کے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 209 روپے ہو گئی ہے۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ حکومت نے مجبوری کے تحت صرف ایک ہفتے بعد تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
نیپرا کے عوام کو بجلی کے جھٹکے، فی یونٹ7 روپے91 پیسے مہنگا کردیا
چین نے 2 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض ری فنانس کرنے پر اتفاق کرلیا، مفتاح اسماعیل
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ نئی قیمتوں کا اطلاق رات بارہ بجے کے بعد ہوگا۔
تازہ ترین اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت 209.86 روپے، ڈیزل کی قیمت 204.15 روپے، مٹی کے تیل کی قیمت 181.94 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 178.31 روپے ہوگی ہے۔ صرف مٹی کے تیل کی قیمت میں 30 روپے سے کم اضافہ کیا گیا۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ "حکومت کو 30 روپے کے اضافے کے باوجود پٹرول کی قیمت میں اب بھی 9 روپے کے قریب نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ہم تیل پر کوئی ٹیکس وصول نہیں کر رہے ہیں۔”
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کر سکتے لیکن کچھ نکات ہیں جن پر ہمیں سمجھوتہ کرنا ہوگا۔”
تاہم مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت ملک بھر میں یوٹیلٹی اسٹورز پر بالترتیب 70 روپے فی کلو اور 40 روپے فی کلو گرام چینی اور گندم کی قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اعلان کردہ پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی کو مالی نقصان سے بچنے کے لیے واپس لینا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ "اگر ہم آئی ایم ایف کے مطالبے کو ایک طرف رکھ بھی دیں تو بھی حکومت پٹرول اور ڈیزل کو خسارے میں نہیں بیچ سکتی۔”
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت "روس” سے تیل درآمد کرنے کے لیے تیار ہے ، بشرطیکہ "روس پر پابندیاں عائد نہ ہوں”۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے قیمتوں میں اضافہ اس وقت کیا جب آئی ایم ایف اور حکومت کسی بیل آؤٹ پیکج تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب شہباز شریف اپوزیشن میں تھے تو مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کرتے پھرتے تھے ، موجودہ وزیر خارجہ نے بھی کراچی سے لے کر اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا تھا ، اب ایسا کیا ہوگیا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا بلکہ بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے۔ جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا ، اور حکومت جو مصنوعی بچت کی اسکمیں لارہی ہے وہ صرف اور صرف اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں ہے۔









