وفاق اور 3 صوبوں کی پٹرولیم اخراجات میں کٹوتی، حمزہ شہباز سوتے رہ گئے

وزیراعظم کا وفاقی کابینہ اور سرکاری افسران کو ملنے والے مفت پیٹرول میں کٹوتی کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ملک کے بدترین معاشی حالات کے پیش نظر کفایت شعاری کیلئے سخت اقدامات کا اعلان کردیا۔ وفاقی، سندھ اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے بھی صوبائی وزراء اور افسران کو ملنے والے مفت پیٹرولیم اخراجات میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے ۔

ملک کی بگڑی معاشی صورتحال پر معاشی ایمرجنسی تحت وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ کے ارکان اور سرکاری افسران کو ملنے والے مفت  پیٹرول میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔  وفاقی کابینہ سمیت اراکین اسمبلی اور بیوروکریسی کی پیٹرول اور دیگر مراعات میں کٹوتی کی جائے گی ۔

یہ بھی پڑھیے

اسٹیٹ بینک کے ذخائر 29ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے

وفاقی حکومت سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے  صوبائی وزراء  اور افسران  بالا  کو ملنے والے مفت پیٹرول کی مد میں 40 فیصد  کٹوتی کے احکامات دیئے۔ مراد علی شاہ  کا کہنا تھا کہ 40 فیصد پیٹرول کوٹا کی کمی سے خزانہ پر بوجھ کچھ کم ہوگا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھی ہیں اور پٹرول کی بڑھتی قیمت کا بوجھ خزانے پرمزید نہیں پڑنا چاہیے۔ خزانے پر بوجھ کا مقصدعوام پربوجھ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے اقدامات کے بعد وزیراعلیٰ  خیبرپختون خوا محمود خان نے وزراء اور افسران کا پٹرول 35 فیصد کم کرنے کے احکامات دئیے ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا کہنا تھاکہ عوام کا پیسہ صرف عوام پر خرچ کرنے کیلئے مزید اقدامات کریں گے۔

 

محکمہ خزانہ پختونخوا نے پیٹرول کی 35فیصد کٹوتی کے حوالے سے کہا کہ سرکاری محکموں کے تیل پر35 ‪فیصد کٹوتی سے بڑی بچت ہوگی۔ اس فیصلے سے صوبے کو سالانہ ڈیڑھ ارب روپے اور ماہانہ ساڑھے 12 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔

ادھرایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے  بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اعلانات کے بعد کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے افسران کو ملنے والے مفت پیٹرول  کی مد میں 40 فیصد کٹوتی کا اعلان کردیا ہے۔

خیال  رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا تھا جبکہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 60 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا جا چکا  ہے۔

متعلقہ تحاریر