فلمساز مہرین جبار پاکستانی ڈراموں سے کیوں نالاں ہیں؟
ہمارے بیشتر ڈرامے بھارتی سوپ سیریلز کی طرح کیوں ہوگئے ہیں؟کہاں کھو گئے وہ لمحے؟

فلمساز مہرین جبار نے پاکستانی ڈراموں پر بھارتی سوپ سیریلز کی نقالی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سنجیدہ اعتراضات اور سوالا ت اٹھادیے۔
خاتون فلمساز کو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے سنہری دور کی بھی یاد آگئی۔
یہ بھی پڑھیے
اداکارہ انوشے عباسی اداکارہ سارہ علی خان کی نقل کرتی ہیں؟
وینا ملک نے سرکاری اشتہارات پر وزیراعظم کو کیا کہہ دیا؟
مہرین جبار نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ہمارے بیشتر ڈرامے بھارتی سوپ سیریلز کی طرح کیوں ہوگئے ہیں؟ خراب روشنی، نہ رکنے والی موسیقی، خواتین کے ڈرائر سے سیدھے کیے ہوئے بال، مردوں کے لیے وہی خش خشی داڑھی، ہر کوئی مسلسل صدمے میں ہے اور چیخ یا رو رہا ہے اور پھیلی ہوئی کہانی کی ہزار اقساط ۔ کہاں کھو گئے وہ لمحے؟
Why have most of our dramas become like Indian soap operas? Bad lighting, non stop carpet music, perfect blow drys for women, the same stubble/beards for men. Everyone in constant trauma & shouting or crying & 1000 eps of a stretched out storyline. Kahan kho gaiye vo lamhey? 🤔
— mehreenjabbar (@mehreenjabbar) June 3, 2022
ٹوئٹر صارفین کی اکثریت مہرین جبار کے اعتراضات سے متفق نظر آئی۔ ایک خاتون صارف نے تبصرہ کیا کہ یہ سلسلہ پچھلے 20 برس سے جاری ہے۔ایک اور خاتون نے لکھا کہ جب آپ کو ان سوالات کا جواب مل جائے تو مجھے بھی آگاہ کردیجیے گا۔
ایک صارف نے لکھا کہ میں سنتا رہتا ہوں کہ لوگ ناظرین کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ناظرین بھی اپنا معیار واپس چاہتے ہیں۔









