ایچ آر سی پی کا سویلین اداروں میں آئی ایس آئی کے کردار پر تشویش کا اظہار
ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان کا کہنا ہے سویلین اداروں کو فوجی بالا دستی سے نکالنا ہو گا اگر جمہوریت کو پروان چڑھانا ہے۔
سویلین معاملات میں مقتدر حلقوں کے بڑھتے ہوئے کردار اور اب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلیٰ عہدیداروں کی تعیناتی اور ترقی کے لیے آئی ایس آئی کو اسکروٹنی کی ذمہ داری دینے پر ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پیغام شیئر کرتے ہوئے ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے لکھا ہے کہ ” ایچ آر سی پی کو وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے سرکاری ملازمین کی بھرتیوں ، تقرریوں اور ترقیوں سے قبل آئی ایس آئی کو باضابطہ طور پر اسکریننگ کرنے کے فیصلے پر گہری تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سرکاری افسران کی تعیناتیاں ، آئی ایس آئی کی منظوری سے مشروط
تحریک انصاف پنجاب کے ناکام ترین صدر شفقت محمود مستعفی
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے مزید لکھا ہے کہ "اگر پاکستان کو جمہوری ملک کے طور پر آگے بڑھنا ہے تو سویلین معاملات میں فوج کے کردار کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔”
HRCP is deeply concerned by PM @CMShehbaz‘s decision to task the ISI officially with screening civil servants before inductions, appointments and postings. The role of the military in civilian affairs needs to recede if Pakistan is to move forward as a democracy. pic.twitter.com/0GObQXhpJr
— Human Rights Commission of Pakistan (@HRCP87) June 4, 2022
ایچ آر سی پی نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ تشویشناک صورتحال ہے کہ وزیراعظم نے سرکاری سطح پر آئی ایس آئی کو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی تعیناتی کا اختیار آئی ایس آئی کو دے دیا ہے۔”
انہوں نے لکھا ہے کہ "جبکہ یہ پریکٹس پہلے سے جاری تھی مگر یہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔’
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے لکھا ہے کہ ” سویلین اداروں کو فوجی بالا دستی سے نکالنا ہو گا اگر جمہوریت کو پروان چڑھانا ہے۔”
واضح رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی تعیناتی اور ترقی کے لیے اسکروٹنی کی ذمہ داری انٹر سروسز انٹیلیجینس (آئی ایس آئی) کو دے دی گئی تھی۔
وزیراعظم کی جانب سے آئی ایس آئی کو اسپیشل ویٹنگ ایجنسی کا اسٹیٹس تفویض کردیا گیا تھا اور اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا گیا تھا۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایس آئی کو تمام پبلک آفس ہولڈرز کی اسکریننگ کرنے کا حکم دیا ہے۔
نیوز 360 کے ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا تھا لیکن اسے پوشیدہ رکھا گیا تھا ، انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایس آئی نے کام شروع کر دیا ہے اور متعلقہ محکموں سے سرکاری افسران اور ان کے اہل خانہ کا ڈیٹا طلب کر لیا گیا ہے۔









