اسٹیٹ بینک نے اکاؤنٹس سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کردی

حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک نے تمام اکاؤنٹس ہولڈرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے اکاؤنٹس بالکل محفوظ ہیں اور آرڈیننس 2001 کے تحت انہیں قانونی تحفظ حاصل ہے۔

حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فارن کرنسی اکاؤنٹس، روشن ڈجیٹل اکاؤنٹس اور سیفٹی ڈپازٹ لاکرز کے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بے بنیاد دعوؤں کی تردید کر دی۔

حکومت پاکستان اور بینک دولت پاکستان نے پاکستان  کے بینکوں میں فارن کرنسی اکاؤنٹس ، روشن ڈجیٹل اکاؤنٹس اور سیفٹی ڈپازٹ لاکرز رکھنے والے تمام اکاؤنٹ ہولڈروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے اکاؤنٹس اور لاکرز مکمل طور پر محفوظ ہیں، اور ان پر کسی قسم کی پابندی عائد کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مارکیٹ میں اسمگل شدہ سگریٹس کی بھرمار،انتباہی نوٹ بھی غائب

اسٹیٹ بینک کے ذخائر 29ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے

سوشل میڈیا پر اس طرح کی افواہیں گردش رہی ہیں کہ حکومت یا اسٹیٹ بینک فارن کرنسی اکاؤنٹس، روشن ڈجیٹل اکاؤنٹس اور سیفٹی ڈپازٹ لاکرز کو منجمد کرنے یا ان سے رقوم نکلوانے پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسی افواہیں مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ مزید وضاحت کی جاتی ہے کہ ایسی کوئی تجویز نہ اس وقت زیر غور لائی گئی ہے ، نہ ہی ماضی میں اس پر غور کیا گیا۔

مزید برآں روشن ڈجیٹل اکاؤنٹس سمیت تمام فارن کرنسی اکاؤنٹس کو فارن کرنسی اکاؤنٹس (پروٹیکشن) آرڈیننس2001ء کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہے اور حکومت اور اسٹیٹ بینک مذکورہ اکاؤنٹس سمیت پاکستان میں تمام مالی اثاثوں کا تحفظ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

حکومت اور اسٹیٹ بینک ملک میں اقتصادی استحکام یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے حالیہ مشکل اقدامات، جن میں پیٹرولیم مصنوعات پر زرِاعانت (subsidy) میں کمی بھی شامل ہے، سے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی راہ ہموار ہوگی اور آئی ایم ایف کی قسط جاری ہوگی ، جبکہ دیگر کثیر طرفہ اداروں اور دوست ملکوں کی جانب سے مالی مدد ملے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ ان اقدامات سے اجناس کی بڑھی ہوئی قیمتوں اور جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی وجہ سے درپیش عارضی دباؤ کم ہوگا، اور معیشت میں غیر یقینی کیفیت بھی ختم ہوگی۔

متعلقہ تحاریر