لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے تاریخ پر تاریخ، حکومت دروغ گوئی سے کام نہ لے
وفاقی وزراء کا کہنا ہے بجلی کا شارٹ فال 4000 میگا واٹ ہے جبکہ پاور ڈویژن کے اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں بجلی شارٹ فال 7000 میگا واٹ ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ منگل (یعنی آج) سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرکے ساڑھے تین گھنٹے تک محدود کردیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے حکومت لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے مستحکم بنیادوں پر اقدامات کرے تاریخ پر تاریخ نہ دے۔
گزشتہ روز اسلام آباد وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 16 جون سے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہوکر 2 گھنٹے رہ جائے گا جبکہ 30 جون کو لوڈشیڈنگ کا دورانیہ دو گھنٹے سے کم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
2 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ برداشت نہیں ہوگی، وزیراعظم
حکومت بجلی کے پلانٹس بند کرے یا چلائے ، عوام کو بجلی دے دے
انہوں نے دروغ گوئی کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگا واٹ ہے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ انہوں نےبتایا کہ بجلی کی پیداوار 21 ہزار میگا واٹ ہے جبکہ طلب 25 ہزار میگا واٹ ہے۔
جبکہ دوسری جانب پاور ڈویژن تقریباً روزانہ کی بنیاد پر بجلی کے شارٹ فال کے حوالے سے تفصلات جاری کرتا ہے جس کے مطابق ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال ساڑھے 7 ہزار میگا واٹ سے تجاوز کرچکا ہے۔
واضح رہے کہ 26 اپریل کو 27 بند پاور پلانٹس میں سے 21 کو فعال کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ یکم مئی سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی ۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپریل کے مہینے میں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں بجلی کی کمی گزشتہ دور حکومت میں 27 پاور پلانٹ بند ہونے کی باعث ہوئی۔
اسی طرح ہفتے کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ دو گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی صورت برداشت نہیں ہو گی ، عوام تکلیف میں ہوں اس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت لوڈشیڈنگ کے معاملے پر ہنگامی اجلاس ہوا تھا، اجلاس میں شاہد خاقان عباسی ، مفتاح اسماعیل ، مصدق ملک اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں میں وزارت توانائی اور لیسکو حکام نے شرکت کی تھی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا تھا کہ ملک بھر میں میں دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ، جس پر وزیراعظم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے ، 10 گھنٹے سے زیادہ کی لوڈشیڈنگ جاری ہے آپ کہہ رہے ہیں کہ دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں آپ کے جھوٹ پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوں۔
پاور ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں بجلی پیداوار لگ بھگ 21 میگا واٹ ہے جبکہ طلب 28 ہزار میگا واٹ ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق ملک بھر میں اس وقت بجلی کا شارٹ فال تقریباً 7000 میگا واٹ ہے۔ بعض شہروں اور دیہاتوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 تک تجاوز کرگیا ہے۔
پاور ڈویژن نے اس بات امکان ظاہر کیا ہے کہ بجلی کی پیداوار میں جلد اضافہ ہوجائے گا اور لوڈشیڈنگ میں کمی واقع ہو جائے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائے اور وہ تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جس سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ اور لوڈشیڈنگ میں کمی واقع ہو سکے۔ وزراء کو چاہیے کہ پریس کانفرنسز کے دوران دروغ گوئی سے کام نہ لیں ، بجلی کا شارٹ فال کتنا ہے اس کی تفصیلات متعلقہ اداروں سے لے لیا کریں۔ کیونکہ آج کا دور انٹرنیٹ کا دور ہے کوئی بھی حقیقت چھپائے چھپ نہیں سکتی ہے۔









