ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، مہنگائی میں مزید اضافے کاامکان
انٹربینک میں ڈالر 2 روپے 77 پیسے اضافے سے تاریخ کی بلند ترین سطح 202 روپے 83 پیسے پر بند ہوا

پاکستانی کرنسی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
منگل 7 جون کو انٹربینک میں ڈالر2 روپے 77 پیسے اضافے سے تاریخ کی بلند ترین سطح 202 روپے 83 پیسے پربند ہوا۔ انٹربینک میں ڈالرکے ریٹ بڑھنے سے اوپن مارکیٹ میں بھی امریکی کرنسی مہنگی ہوگئی۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر ساڑھے تین روپے اضافے سے 204 روپے کی ریکارڈ سطح پر فروخت ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک پی ٹی آئی حکومت کے گن گانے لگے
معاشی ماہرین نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشات ہیں۔ معیشت دانوں کا کہنا ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے سے پٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر امپورٹڈ سامان مزید مہنگا ہوگا۔
معاشی امور کے تجزیہ کاروں نے بتایا کہ روپے کی قدر میں کمی سے خوردنی تیل، دالیں خشک دودھ سمیت کھانے پینے کی دیگر اشیا کی امپورٹ پرائس بڑھ جائے گی جو مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپیہ پربڑھتے ہوئے دبا، ذرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے رحجان سے ڈیفالٹ رسک بڑھتا جارہا ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں فروخت کیے جانے والے پاکستان کے یورو اور سکوک بانڈز کا شرح منافع بھی بلند سطح پر پہنچ گیا ہے۔ رواں 4.5 ارب ڈالر کے عالمی یوروبانڈز میچور ہونے کی وجہ سے پاکستان کو ادائیگیاں بھی کرنی ہیں۔
روپے کی قدر میں کمی سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ رواں مالی سال جولائی 2021 سے اپریل 2022 کے دوران بیرونی تجارت میں پاکستان کو 39 ارب ڈالر سے زائد خسارہ ہوا۔









