اسلام آباد میں لمز گریجویٹ قتل، غیر ملکی خاتون سے زیادتی، وزیر داخلہ کیا کر رہے ہیں

رانا ثنا اللہ سیاسی معاملات چھوڑیں اسلام آباد کی سیکیورٹی سنبھالیں، شہریوں کا مطالبہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جرائم کی نئی لہرسے شہری عدم تحفظ کا شکار ہوگئے۔ شہراقتدار کے مکین وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ سے مطالبہ کرنے لگیں ہیں کہ سیاسی کارکنوں کے گھروں میں  پر چھاپہ مارنے، ان پر دباؤ ڈالنے اور گرفتار کرنے کے بجائے جرائم پیشہ افراد  اور دہشتگردی کا سدباب کریں۔

اسلام آباد میں گزشتہ روزایک دلخراش واقعہ پیش آیا جب اقوام متحدہ کےذیلی ادارے سے وابستہ غیر ملکی خاتون کو ان کے گھر کی چوکیداری پر معمور گارڈ نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ خاتون نے نجی سیکورٹی کمپنی اور گارڈ محمد سفیر پر کو مقدمہ میں نامزد کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

خاتون اینکر کو ہراساں کرنیکا ملزم پی ٹی وی میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بن گیا

ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے بتایا کہ گھرمیں تعینات سیکیورٹی گارڈ نے رات گئے کمرے میں داخل ہوکرانہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور فرار ہوگیا۔ سویڈن سے تعلق رکھنے والی خاتون 7 جنوری کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے ساتھ کام کرنے کی لیے پاکستان منتقل ہوئیں تھیں۔

اتوار کی رات اسلام  آباد کے ایف نائن پارک میں  روز موبائل چھیننے کی واردات کے دوران 25 سالہ پڑھا لکھا اور مہذب نوجوان قاسم اعوان جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں اپنی زندگی کی بازی ہار گیا۔ قاسم نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائسنز (لمز) سے اکنامکس میں گریجویشن کیا تھا۔  وہ کھانے کی ڈیلیوری ایپ میں بطور مینیجر کام کرتے تھے۔

لمز سے پڑھے لکھے نوجوان  کے بے رحمانہ قتل کے بعد سوشل میڈیا کے  (قاسم اعوان کے لیے انصاف) کا ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے۔ شہریوں نے  واقعے کو محکمہ داخلہ اور پولیس کی غفلت قراردیا۔ اسلام آباد میں رہائشیوں نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا  کہ سیاسی  گرفتاریاں چھوڑ کر اصل مسائل پر توجہ دیں۔

عدم تحفظ کا شکاراسلام آباد کے مکینوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ  صرف سیاسی مسائل میں الجھے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے جرائم پیشہ اور دہشتگرد وں سے صرف نظر کررکھا ہے ۔ ملکی و غیرملکی خواتین سے زیادتی ہوئی رہیں ہیں۔ موبائل چھیننے والے نوجوانوں کی جانیں چھین  رہے ہیں جبکہ وزر داخلہ سیاسی بیانات ہی دیئے جا رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر